روہنگیا پناہ گزیں بحران کا حل صرف میانمار میں نکالا جانا چاہئے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ایک افسر نے میانمار میں گزشتہ 25 اگست سے شروع ہونے والے تشدد کے بعد پانچ لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کے در بدر ہونے اور بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے اصل اسباب میانمار میں ہی ہیں اور اس کا حل صرف میانمار میں نکالا جانا چاہئے۔

Oct 05, 2017 11:57 AM IST | Updated on: Oct 05, 2017 11:57 AM IST
روہنگیا پناہ گزیں بحران کا حل صرف میانمار میں نکالا جانا چاہئے: اقوام متحدہ

روہنگیا مسلمان: رائٹرز۔

اقوام متحدہ۔  اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ایک افسر نے میانمار میں گزشتہ 25 اگست سے شروع ہونے والے تشدد کے بعد پانچ لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کے در بدر ہونے اور بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے اصل اسباب میانمار میں ہی ہیں اور اس کا حل صرف میانمار میں نکالا جانا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارک لوکاك نے کاکس بازار میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ "جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس مسئلہ کی بنیادی وجوہات میانمار میں ہی ہیں اور اس کا حل میانمار میں ہی تلاش کرنے کی ضرورت ہے"۔

مسٹر لوکاک نے کہا کہ امدادی آپریشن تیزی سے جاری ہے، لیکن اس کو مزید سرگرم کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران امدادی اداروں نے 90 ملین سے زیادہ کھانے کے پیکٹ تقسیم کئے ہیں اور تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کو پینے کا پانی اور صحت سہولیات فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد بچوں کو ٹیکہ لگایا گیا ہے ۔

مسٹر لوکاک نے بین الاقوامی برادری سے تعاون بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "عارضی کیمپوں میں حالات خوفناک ہیں۔ ہم نے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے، اسے مزید سرگرم کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا ہے"۔

Loading...

Loading...