உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بائیڈن نے پوتن کو یوکرین پر حملے کی ’بھاری قیمت‘ چکانے کی دی دھمکی، 1 گھنٹے سے زیادہ دیر تک ہوئی فون پر بات

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر جوبائیڈن۔  (فائل فوٹو)

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر جوبائیڈن۔ (فائل فوٹو)

    امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی۔ معلومات کے مطابق بائیڈن نے پوٹن کو بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا اور روس کی شبیہ کو داغدار کیا جائے گا۔

    • Share this:
      واشنگٹن:امریکی صدر جو بائیڈن(America President Joe Biden) نے ہفتے کے روز دوبارہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن(Russian President Vladimir Putin) سے کہا کہ وہ یوکرین(Ukraine) کی سرحد پر جمع ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ روس کو دھمکی دی کہ اگر اس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اس کا سختی سے جواب دیں گے اور روس کو اس کی بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی۔ معلومات کے مطابق بائیڈن نے پوٹن کو بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا اور روس کی شبیہ کو داغدار کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، بائیڈن نے پوٹن کو یہ بھی بتایا کہ امریکہ یوکرین پر سفارت کاری جاری رکھے گا، لیکن دوسرے حالات کے لیے بھی وہ اتنا ہی تیار ہے۔


      یوکرین کے بحران کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان 62 منٹ کی فون پر بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت اس وقت ہوئی جب بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر نے انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ روس چند دنوں میں حملہ کر سکتا ہے اور بیجنگ میں جاری سرمائی اولمپکس جو 20 فروری کو ختم ہورہے ہیں اس سے پہلے بھی حملہ کرسکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد پر ایک لاکھ سے زائد فوجی جمع کر رکھے ہیں اور اپنے فوجیوں کو ہمسایہ ملک بیلاروس میں مشقوں کے لیے بھیج دیا ہے۔ تاہم روس نے مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے جا رہا ہے۔ بحران میں مزید اضافہ کرتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع نے مزید 3000 امریکی فوجی پولینڈ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

      بحیرہ اسود کی بندرگاہ پر امریکہ بھاری فوجی سامان تعینات کر رہا ہے
      بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی فوج یوکرین میں جنگ نہیں کرے گی، لیکن اس نے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ روس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ محکمہ خارجہ ہفتے کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اپنے سفارت خانے سے تمام امریکی ملازمین کو نکالنے کا اعلان کر سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے محکمہ خارجہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: