உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine War:بڑھتے چیلنجز سے محتاط روس40 سال کی عمر سے زائد افراد کو فوج میں کرے گا بھرتی، فن لینڈ کی سرحد پر بڑھے گی فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعداد

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے سامنے یوکرین جنگ کو لے کر آئی یہ بڑی پریشانی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے سامنے یوکرین جنگ کو لے کر آئی یہ بڑی پریشانی۔

    Russia Ukraine War: گزشتہ 85 دنوں سے جاری یوکرین جنگ میں روس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرین کی فوج نے 20 ہزار سے زائد روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں روسی ہتھیاروں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      Russia Ukraine War:یوکرین میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنے والی روسی فوج کو وہاں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے روس کے سامنے چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں۔ ہمسایہ ملک فن لینڈ اور اس کا اتحادی سویڈن امریکہ کی زیر قیادت فوجی تنظیم نیٹو میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ ایسے میں روس خود کو گھرا ہوا محسوس کر رہا ہے۔ روس نے فن لینڈ کے ساتھ مغربی سرحد پر فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے روسی حکومت نے اپنی فوج میں 40 سال سے زیادہ عمر کے شہریوں اور 30 ​​سال سے زیادہ عمر کے غیر ملکی شہریوں کو بھرتی کرنے کی تجویز تیار کی ہے۔

      حکومت نے زیادہ عمر کے روسی اور اتحادی شہریوں کی بھرتی کے لیے ایک تجویز تیار کی ہے۔ جلد ہی اس تجویز کو پارلیمنٹ ڈوما میں پیش کیا جائے گا اور اس کی منظوری لی جائے گی۔ فی الحال، روسی شہریوں کے لیے فوجی بھرتی کی عمر 18 سے 40 سال کے درمیان ہے، جب کہ غیر ملکی شہریوں کے لیے عمر کی حد 18 سے 30 سال ہے۔ روسی حکومت کے مطابق اعلیٰ صلاحیت والے ہتھیار چلانے کے لیے تجربہ کار افراد کی ضرورت ہے۔ اس لیے 45 سال کی عمر کے لوگوں کو بھی فوج میں بھرتی کیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ کم درجہ حرارت اور اچھی خوراک کی وجہ سے زیادہ تر روسی شہریوں پر عمر کا اثر جلد نہیں دیکھائی دیتا ہے اور وہ زیادہ وقت تک جوان رہتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      NATO Membership: سویڈن اور فن لینڈ آج نیٹو کی رکنیت کی بولی کرائیں گےجمع، آخر روس کیوں...؟

      یوکرین جنگ روس کے لئے ثابت ہوئی کافی مہنگی
      گزشتہ 85 دنوں سے جاری یوکرین جنگ میں روس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرین کی فوج نے 20 ہزار سے زائد روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں روسی ہتھیاروں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے یوکرین کی جنگ روس کے لیے بہت مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ نئے منظر نامے میں روس کے لیے سیکیورٹی چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      NATO Membership:فن لینڈاورسوئیڈن کے نیٹومیں شامل ہونے کی بحث کے درمیان پوتن نے دیا بڑابیان

      اس سے روس کو فوجیوں کی تعداد بڑھانے اور فوج کو تربیت دینے کی ضرورت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک میں گھرے ہونے کی وجہ سے روس کے لیے فوج کے حجم اور صلاحیت کو بڑھانا ضروری ہو گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: