உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوکرین میں قبضہ والے علاقوں میں ووٹنگ کرانا چاہتا ہے روس، چار نومبر کی تاریخ کی طے

    یوکرین میں قبضہ والے علاقوں میں ووٹنگ کرانا چاہتا ہے روس، چار نومبر کی تاریخ کی طے (AP)

    یوکرین میں قبضہ والے علاقوں میں ووٹنگ کرانا چاہتا ہے روس، چار نومبر کی تاریخ کی طے (AP)

    Ukraine War: روس 24 فروری سے یوکرین پر حملے کررہا ہے ۔ چھ مہینے کی جنگ کے دوران روس نے یوکرین کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے ۔ اب روس ان قبضہ والے علاقوں میں الیکشن کرانا چاہتا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, Indiarussiarussia
    • Share this:
      ماسکو: روس 24 فروری سے یوکرین پر حملے کررہا ہے ۔ چھ مہینے کی جنگ کے دوران روس نے یوکرین کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے ۔ اب روس ان قبضہ والے علاقوں میں الیکشن کرانا چاہتا ہے ۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے چار نومبر کو ووٹنگ کی تجویز پیش کی ہے ۔ وہیں دوسری طرف یوکرین نے بوچا شہر میں روسی افواج پر قتل عام کا الزام لگایا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے:  حلب کے ہوائی اڈے پر بھیانک نقصان، ایک ہی ہفتے میں اسرائیل کا دوسرا حملہ


      ادھر روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت میں کچھ شرائط پر سمجھوتے کی امید بھی پیدا ہوئی ہے ۔ حال ہی میں ترکی میں دونوں ممالک کے درمیان ہوئی بات چیت میں کچھ شرائط کے ساتھ سمجھوتے کی امید پیدا ہوتی نظر آئی ۔ حالانکہ اس بات چیت کے باوجود جنگ کے میدان میں روس ابھی بھی کئی علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوا ہے اور یوکرین کی فوج بھی پوری طاقت سے جواب دے رہی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: نیوکلیئر پاور پلانٹ زاپوریژیا کی حفاظت کیلئے سیکیورٹی زون کے قیام پر زور


      چھ ماہ کی جنگ کے دوران روس نے یوکرین کے بوچا ، ماریوپول ، خارکیف ، چرنیہائیو، سیویروڈونیسک اور لیسچنکس سمیت 15 سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے ۔ یوکرین کے پراسیکویٹر جنرل آفس نے بتایا کہ روس کے حملے کے بعد اب تک یوکرین میں 382 بچوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 741 زخمی ہوئے ہیں ۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونیسٹک میں 388، خارکیف میں 204، کیف میں 116، مائیکولائیو میں 71، لوہانسک میں 61، کھیرسان میں 55 اور جاپوریجیا میں 46 بچوں کی موت ہوئی ہے ۔ روس کے حملے سے تباہ یوکرین کی آدھی سے زیادہ آبادی دوسرے ممالک میں پناہ لے چکی ہے ۔ کچھ لوگ اب بھی ملک چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ جیسے بھی ہیں، یہیں ٹھیک ہیں۔ کچھ دن میں حالات سدھر جائیں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: