உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوکرین کے کیف کے قریب پہنچ گیا ہے 64 KM لمبا روسی قافلہ، سٹیلائٹ تصویروں سے ہوا انکشاف

    Youtube Video

    russia-ukraine-conflict: روسی فوج تیزی سے کیف کی طرف بڑھ رہی ہے۔ روس کی جانب سے اب یوکرین کی دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بہت بڑا فوجی قافلہ بھیجا گیا ہے۔ روس کا 40 میل (64 کلومیٹر) طویل قافلہ کیف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ روسی حملے کے بعد یوکرین کے لیے یہ سب سے طویل فوجی قافلہ بھیجا گیا ہے۔ اس سے پہلے روس کے بھیجے جانے والے قافلوں کا سائز 3 میل تک رہا تھا۔

    • Share this:
      russia-ukraine-conflict: روسی فوج تیزی سے کیف کی طرف بڑھ رہی ہے۔ روس کی جانب سے اب یوکرین کی دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بہت بڑا فوجی قافلہ بھیجا گیا ہے۔ روس کا 40 میل (64 کلومیٹر) طویل قافلہ کیف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ روسی حملے کے بعد یوکرین کے لیے یہ سب سے طویل فوجی قافلہ بھیجا گیا ہے۔ اس سے پہلے روس کے بھیجے جانے والے قافلوں کا سائز 3 میل تک رہا تھا۔ یوکرین کی وزارت دفاع نے پیر کو شمال مشرقی یوکرین کے قصبے اوختیرکا پر روسی گولہ باری کے بعد کا فوٹیج شیئر کیا ہے۔ فوٹیج میں ایک تباہ شدہ عمارت اور ملبہ دکھایا گیا ہے، جس میں امدادی کارکن ملبے کے نیچے سے ایک مردہ شخص کی لاش کو نکال رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی کے مطابق روسی فوج کی جانب سے اوختیرکا میں ایک بیرک کو نشانہ بنایا گیا جو روس کی سرحد کے قریب سومی کے علاقے میں واقع ہے۔ یوکرین انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں کم ازکم چھ شہری ہلاک اورمتعدد زخمی ہوئے ہیں۔

      روس اور یوکرین کے درمیان جنگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ منگل کو روس کے فوجی حملے میں 70 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک ہو گئے۔ روسی فوجیوں نے اوختیرکا میں واقع فوجی اڈے کو توپ سے نشانہ بنایا تھا۔ Okhtyrka شہر خار کیف Kharkiv اور کیف Kyiv کے درمیان واقع ہے۔


      دراصل، امریکی کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز نے پیر کو اطلاع دی ہے کہ کیف سے 40 میل (64 کلومیٹر) شمال میں روسی فوجی قافلہ موجود ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس سے قبل قافلے کی لمبائی کا تخمینہ 17 میل یعنی 27 کلومیٹر لگایا گیا تھا۔ یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی جاری ہے۔

      قابل ذکر ہے کہ یوکرین پر روس نے حملہ کردیا اور عالمی برادری، غربی اتحادی اور خاص کرامریکہ سوائے وارننگ ، اقتصادی پابندیاں،بیان جاری کرنے اور اپیل کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکی۔ امریکہ نے روس کو حملہ سے باز رہنے کے لئے کئی مرتبہ وراننگ دی لیکن سب بے سود ثابت ہوئیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے یوکرین کی بقاء اور اس کی حفاظت کے لئے کوئی ایسا مؤثر قدم نہیں اٹھایا جو یوکرین پر تھوپی گئی جنگ میں اس جنگ زدہ ملک کو کوئی خاطر خواہ فائدہ پہنچاسکے۔ اس کا شکوہ یوکرین نے کیا بھی ہے۔اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آخر امریکہ نے ایسا کیوں نہیں کیا۔

      روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جس میں عام شہری اور فوجی دونوں شامل ہیں۔ اس تنازع کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ہنگامی بحث کے لیے ووٹ دیا گیا ہے۔ جو انتیس ووٹوں سے منظور ہوا۔ جبکہ ہندوستان سمیت تیرہ ممالک ووٹنگ سے دور رہے۔پانچ ممالک نے اس درخواست کے خلاف ووٹ دیا۔ ان میں روس، چین، اریٹیریا، کیوبا اور وینزویلا شامل ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ جن ممالک نے ووٹنگ سے دوری بنائی ان میں آرمینیا، گیبون، کیمرون، قازقستان، موریطانیہ، نمیبیا، پاکستان، سینیگل، صومالیہ، سوڈان، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل روس ۔یوکرین جنگ پراب جمعرات کو ایک فوری بحث کرے گی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: