உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس۔یوکرین کشیدگی: یقین نہیں ہوتا ہمارا ملک ایسا کر رہا ہے، خوف میں ڈوبے یوکرین کے لوگوں نے بیان کیا درد

    Russia-Ukraine Conflict: یوکرین کے سب وے اسٹیشن پر بھی لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا۔ یوکرین کے دوسرے بڑے شہر کارکیو میں لوگوں نے دھماکوں کی آواز سن کر  انڈرگراؤنڈ ہونے لگے۔

    Russia-Ukraine Conflict: یوکرین کے سب وے اسٹیشن پر بھی لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا۔ یوکرین کے دوسرے بڑے شہر کارکیو میں لوگوں نے دھماکوں کی آواز سن کر انڈرگراؤنڈ ہونے لگے۔

    Russia-Ukraine Conflict: یوکرین کے سب وے اسٹیشن پر بھی لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا۔ یوکرین کے دوسرے بڑے شہر کارکیو میں لوگوں نے دھماکوں کی آواز سن کر انڈرگراؤنڈ ہونے لگے۔

    • Share this:
      کیف۔ صبح کے تقریباً 6 بج رہے تھے اور کیف (Kyiv) کے رہنے والے یانا اور سرجی لیسینکو ایک زوردار آواز سے لرز اٹھا۔ پہلے یانا کو لگا کہ شاید اس کے شوہر کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور یہ حملہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور دھماکے کی آواز سنی۔ کچھ دیر بعد گھر والوں کو ہوش آیا اور آخر کار انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ ویسے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے 'خصوصی فوجی آپریشن' کے اعلان کے بعد کارکیو، اوڈیسا سمیت کئی مقامات سے ایسی ہی کہانیاں سامنے آئیں۔ یوکرین میں کئی مقامات اور رہائشیوں نے روسی کارروائی کے پہلے دن تباہی دیکھی۔

      سی این این سے گفتگو میں سرجی نے بتایا کہ 'ہم نے خبریں سننا شروع کیں اور ہم سمجھ گئے کہ جنگ شروع ہو گئی ہے، روسی جارحیت چل رہی ہے۔' دوستوں سے جام کی اطلاع ملنے کے بعد جوڑے نے اپنی تین سالہ بیٹی کے ساتھ پہلے تو گھر پر  ہی رہنے کا فیصلہ کیا لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا سامان باندھ کر رضامندی ظاہر کر دی۔ انہوں نے کہا، 'ہم حیران تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ پرسکون رہیں اور لڑکی کو کچھ نہ دکھائیں۔' حالانکہ دوپہر تک جوڑے نے کیف کے گھر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور Ternopil کی طرف نکل پڑے۔

      سی این این کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے مسلسل انتباہ کے باوجود یوکرین کی رائے اس حملے کے بارے میں بٹی ہوئی تھی۔ یہ امید کی جارہی تھی  اس وقت یہ سب صرف ماسکو میں منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے۔ ایسے میں جمعرات کو شروع ہونے والا حملہ ملک کے لیے ایک جھٹکے کے طور پر سامنے آیا۔ اس دوران لوگ ادویات اور ضروری اشیاء لینے کے لیے دکانوں پر جمع ہونے لگے۔ سی این این سے گفتگو میں 24/7 مارکیٹ کے 20 سالہ اولیکسینڈر نے بتایا کہ پاستا اور روٹی کی شیلفیں خالی ہیں۔ اے ٹی ایم کے باہر کیش نکالنے کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ اس دوران پھیلنے والی افواہوں نے بھی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔

      یوکرین کے سب وے اسٹیشن پر بھی لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا۔ یوکرین کے دوسرے بڑے شہر کارکیو میں لوگوں نے دھماکوں کی آواز سن کر  انڈرگراؤنڈ ہونے لگے۔ ایسی اطلاعات تھیں کہ روسی افواج یوکرین کے شمال مشرق میں واقع شہر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کے بعد لوگ سب وے اسٹیشن پر بچوں اور پالتو جانوروں کے ساتھ اترنے لگے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس گاڑی ہے، لیکن وہ شہر چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔



      رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں لوگوں کی جانب سے محسوس کی جانے والی غیر یقینی صورتحال کو دیکھ کر ایک خاتون سوچ رہی ہے کہ ایک رات میں اس کی زندگی کیسے بدل گئی۔ انہوں نے کہا، 'آپ صبح 5 بجے ایک نئی حقیقت کے ساتھ بیدار ہوئے اور آپ کو معلوم ہوا کہ دنیا اب وہ محفوظ جگہ نہیں رہی جو آپ نے سوچا تھا۔' انہوں نے کہا کہ "یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ہمارا پڑوسی ایسا کر رہا ہے کیونکہ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہمارا پڑوسی آئے گا اور ہماری زمین پر قبضہ کرے گا اور ہمیں بتائے گا کہ کیا کرنا ہے۔" ہم ایک آزاد ملک یوکرین ہیں، اور... ہم روس یا کسی دوسرے ملک کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔'
      Published by:Sana Naeem
      First published: