உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine Crisis:کریمیا میں تیل نکالنے والے پلیٹ فارم پر یوکرین کا حملہ، روس کا دعویٰ-سیورسکی ڈونسیک ندی علاقے اور توشکیوکا شہر پر قبضہ

    روس کے زیر قبضہ علاقوں پر حملہ کرنے کا یوکرین نے کیا بڑا دعویٰ۔

    روس کے زیر قبضہ علاقوں پر حملہ کرنے کا یوکرین نے کیا بڑا دعویٰ۔

    Russia Ukraine Crisis:لوہانسک کے فوجی سربراہ نے سیویروڈونسک شہر پر روسی حملے سے خبردار کیا ہے۔ سیرہی ہیڈے نے کہا ہے کہ روسی فوج کے پاس شہر پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے کافی ہتھیار ہیں۔ اس نے علاقے کے چاروں طرف بھاری فوجی ساز و سامان تعینات کر دیا ہے۔

    • Share this:
      Russia Ukraine Crisis:یوکرین کی افواج نے روس کے زیر قبضہ صوبے کریمیا میں بحیرہ اسود سے تیل نکالنے کے پلیٹ فارم پر جنگ کے 118 ویں دن حملہ کیا۔ تقریباً چار ماہ سے جاری اس جنگ میں یوکرین نے پہلی بار باہر سے کسی بڑے روسی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ دوسری جانب سابقہ ​​شہروں سیوروڈونسک اور لیسیچینسک کے بڑے علاقوں پر روسی قبضہ قبول کرتے ہوئے جنوبی صوبے میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

      روس کے حمایت یافتہ علاقائی سربراہ نے کہا کہ کریمیا کے مضافات میں یوکرینی فورسز کے حملے میں تین افراد زخمی اور 7اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔ کریملن نے بھی کریمیا میں لاپتہ اہلکاروں کا اعتراف کیا ہے۔ بتادیں کہ کریمیا پہلے یوکرین کا علاقہ تھا لیکن 2014 میں روس نے اس پر قبضہ کر لیا۔

      ایک برطانوی انٹلیجنس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی طرف سے مغربی فراہم کردہ ہارپون اینٹی شپ میزائل کے پہلے کامیاب استعمال کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب روسی افواج نے منگل کی اولین ساعتوں میں مشرقی یوکرین کے شہر سیورودونسک کے قریب سیورسکی ڈونیٹسک ندی کے علاقے اور توشکیوکا شہر پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Explained: روس یوکرین جنگ سے خوراک کے بحران نے کیسے لیا جنم؟ جانیے مکمل تفصیلات

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War:ناٹو چیف کی وارننگ، سالوں تک جاری رہ سکتی ہے جنگ، چکانی پڑے گی بڑی قیمت

      سیورودونیسک پر حملے کے لئے روسی فوج نے مہیا کرائے ہتھیار
      لوہانسک کے فوجی سربراہ نے سیویروڈونسک شہر پر روسی حملے سے خبردار کیا ہے۔ سیرہی ہیڈے نے کہا ہے کہ روسی فوج کے پاس شہر پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے کافی ہتھیار ہیں۔ اس نے علاقے کے چاروں طرف بھاری فوجی ساز و سامان تعینات کر دیا ہے۔ یہاں شہر کا بیشتر حصہ روسی فوج کے قبضے میں ہے، صرف صنعتی علاقے میں اس وقت لڑائی جاری ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: