உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine Crisis:یوروپی یونین نے یوکرین کو امیدوار کا درجہ دیا، دو گاوؤں پر روس کا قبضہ

    یوکرین کے مزید دو علاقوں پر روسی فوج کا قبضہ۔

    یوکرین کے مزید دو علاقوں پر روسی فوج کا قبضہ۔

    یوکرین کے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ روسی فوجیوں نے لوسکوتیوکا اور رائی اولیکسنڈریوکا گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب وہ سیوروڈونسک کے باہر ساروٹائن پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      Russia Ukraine Crisis:یورپی یونین (EU) نے جمعرات کو باضابطہ طور پر یوکرین کو رکنیت کے لیے امیدوار کا درجہ دے دیا۔ اس سے قبل یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین کو اپنی تنظیم میں شمولیت کے لیے امیدوار کا درجہ دینے پر اتفاق کیا تھا۔ دوسری جانب روس یوکرین جنگ کے 120ویں روز روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے دو دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب روس ایک بڑی شاہراہ پر قبضہ کرکے، رسد کاٹ کر یوکرین کے کچھ فرنٹ لائن فوجیوں کو گھیرنا چاہتا ہے۔

      یہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے لیے ایک طویل اور غیر متوقع سفر کا پہلا قدم ہے۔ برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ محاصرے کے امکان سے بچنے کے لیے یوکرینی فوجیوں کو لیسیچانسک شہر کے قریب کچھ علاقوں سے واپس بلا لیا گیا ہے۔ یہاں روسی فوجی شدید گولہ باری کر رہے ہیں۔

      دوسری جانب یوکرین کے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ روسی فوجیوں نے لوسکوتیوکا اور رائی اولیکسنڈریوکا گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب وہ سیوروڈونسک کے باہر ساروٹائن پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب برسلز سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ یوکرین کا اب یورپی یونین کی رکنیت کا دعویدار بننا یقینی ہے۔

      متفقہ طور سے یوکرین کے حق میں ہوگی منظوری
      برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے پہلے، یورپی یونین کے کئی سفارت کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یوکرین کی طرف سے بات چیت شروع کرنے کے لیے متفقہ منظوری کی ضرورت ہوگی۔ یورپی یونین کے 27 ممالک روس کی جارحیت کے خلاف یوکرین کی مزاحمت کی حمایت میں متحد ہیں، ماسکو کے خلاف بے مثال اقتصادی پابندیوں کو قبول کرتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      BRICS Declaration:بات چیت سے حل ہویوکرین تنازعہ،دہشتگردی کیلئے نہ ہوافغان سرزمین کااستعمال

      یہ بھی پڑھیں:
      Indian Embassy In Kabul:کابل کے ہندوستانی سفارتخانے میں تعینات ہوئی تکنیکی ٹیم

      گیس سپلائی’بحران‘ کا سامنا کررہا ہے جرمنی
      جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ قدرتی گیس کی سپلائی کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل ہنگامی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے ۔ جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ روس سے رسد میں کمی سے موسم سرما کے لیے ذخیرہ کرنے کے اہداف کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ حکومت نے کہا کہ روس کی جانب سے سپلائی میں کٹوتی اور مارکیٹ میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اسے 14 جون سے ’خطرناک‘ سطح کی وارننگ جاری کرنی پڑی۔ تیسرے اور آخری مرحلے کو 'ایمرجنسی' لیول کہا جائے گا۔ اقتصادی امور کے وزیر رابرٹ ہیبک نے صورتحال کو سنگین قرار دیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: