உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine Crisis: یوکرین کے روسی قبضے والے ایٹمی پاور پلانٹ پر شیلنگ، بجلی کی لائن میں لگی آگ

    روسی فوج کے حملوں سے یوکرین کے زاپوریزیا میں نیوکلیئر پلانٹ کو خطرہ۔ (فائل فوٹو)

    روسی فوج کے حملوں سے یوکرین کے زاپوریزیا میں نیوکلیئر پلانٹ کو خطرہ۔ (فائل فوٹو)

    Russia Ukraine Crisis: زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں چھ دباؤ والے پانی کے ری ایکٹر ہیں اور تابکار فضلہ کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے اس پر حملے سے ہائیڈروجن کے اخراج اور تابکار ذرات کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ آگ کے پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      Russia Ukraine Crisis:روس اور یوکرین کے درمیان طویل ہوتی جارہی جنگ میں ان دنوں سب سے اہم سرحدی علاقے ڈونباس میں لڑائی جاری ہے۔ یہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سب سے بڑے زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ پر گولہ باری کا الزام لگایا۔ اس شدید لڑائی کے درمیان یوکرین سے غلہ لے جانے والے مزید تین بحری جہازوں کو چھوڑ دیا گیا۔

      ہفتے کی صبح ری ایکٹر پر روسی راکٹ سے دو راؤنڈ فائرنگ کے دوران پاور گرڈ سے رابطہ منقطع ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یوکرین کی جوہری ایجنسی کا کہنا ہے کہ روسی راکٹوں کے ایک بڑے سلسلے سے روس کے زیر کنٹرول علاقے میں جوہری پاور پلانٹ کے ایک حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ جنوبی یوکرین میں یورپ کا سب سے بڑا پلانٹ رہا ہے۔ تاہم یوکرین نے کہا کہ ابھی تک کوئی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا ہے۔

      اینرہودر کے گورنر نے اطلاع دی کہ زاپوریزیا پلانٹ میں نائٹروجن-آکسیجن یونٹ اور ایک ہائی وولٹیج پاور لائن کو نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین نے روسی افواج پر دہشت گردی کے حربے استعمال کرتے ہوئے شہری علاقوں میں راکٹ فائر کرنے کا بھی الزام لگایا ہے جبکہ یہاں تعینات روسی اہلکاروں نے اس گولہ باری کا ذمہ دار یوکرین کو ٹھہرایا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Synthetic Embryo: دنیا کا پہلا مصنوعی جنین تیار، اسرائیلی سائنسدانوں کا حیرت انگیز کارنامہ

      یہ بھی پڑھیں:
      India On IOC:دفعہ 370 پر اسلامی ممالک کی تنظیمOICکی ہندوستان نے کی بولتی بند

      ہائیڈروجن کے اخراج اور تابکار مادوں کے پھیلاؤ کا خطرہ
      زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں چھ دباؤ والے پانی کے ری ایکٹر ہیں اور تابکار فضلہ کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے اس پر حملے سے ہائیڈروجن کے اخراج اور تابکار ذرات کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ آگ کے پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ حالانکہ فی الحال اس حملے میں کسی جانی نقصان کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس پلانٹ پر مارچ میں ہی روس نے قبضہ کر لیا تھا۔ روس نے اس کے ارد گرد کے علاقوں کو بھی کنٹرول کر رکھا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: