உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine Crisis:ترکی کے صدر ایردوان نے پوتن کے ساتھ ٹیلیفون پر کی بات، کئی ایشوز پر ہوئی گفتگو

    روسی صدر سے فون پر بات کرکے ترک صدر ایردوان نے کی یہ پیشکش۔

    روسی صدر سے فون پر بات کرکے ترک صدر ایردوان نے کی یہ پیشکش۔

    Russia Ukraine Crisis: روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ روس نے اس حملے کو ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیا ہے، جسے مغربی ممالک نے ایک غیر منصفانہ جنگ قرار دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مغربی ممالک نے بھی روس پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    • Share this:
      Russia Ukraine Crisis:انقرہ: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روس یوکرائن جنگ کے درمیان پیر کو ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ ترک صدر نے کہا کہ ان کے اور روسی صدر کے درمیان علاقائی امور پر بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ یوکرین میں جاری روسی آپریشن اور موجودہ ترکی روس تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر رجب نے مزید کہا کہ جنگ سے پیدا ہونے والے منفی نتائج کو روکنے کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

      صدر رجب طیب ایردوان نے رکھی تجویز
      ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران، ترک صدر رجب طیب ایردوان نے تجویز پیش کی کہ اگر روس، یوکرین اور اقوام متحدہ استنبول میں اجلاس منعقد کرنے پر رضامند ہو جائیں تو ترکی ممکنہ نگرانی کے طریقہ کار میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

      جنگ کے سبب 50لاکھ لوگوں نے چھوڑا گھر
      ایردوان نے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ شام میں ترکی اور شامی شہری آبادی کے خلاف دہشت گرد تنظیم 'کردستان ورکرز پارٹی' کے حملے جاری ہیں۔ UNHCR کے اعداد و شمار کے مطابق، یوکرین میں جنگ نے انتہائی سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جس میں 50 لاکھ (5 ملین) سے زیادہ یوکرینی شہری وطن چھوڑ کر پڑوسی مغربی ممالک میں جا رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      China vs US:امریکہ کے اشارے پرفجی نے چین کوللکارا،ہند-بحرالکاہل علاقے میں سفارتی جنگ تیز

      یہ بھی پڑھیں:
      UN Sanctions:نارتھ کوریاپرپابندی کی امریکی تجویز کوہندوستان کی حمایت،چین اورروس نے کیاویٹو

      آپ کو بتا دیں کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔ روس نے اس حملے کے پیچھے وجہ بیان کرتے ہوئے اسے ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیا ہے، جسے مغربی ممالک نے ایک غیر منصفانہ جنگ قرار دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مغربی ممالک نے بھی روس پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: