உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine Crisis: امریکہ کو پوتن نے دکھائی آنکھ، جو بائیڈن بولے۔ اب ہم بھی پیچھے نہیں رہیں گے

    Youtube Video

    Ukraine Crisis: سی این این کی رپورٹ کے مطابق پوتن کے اس بیان کے بعد ہی یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 11 شہروں میں دھماکے ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقے سے بھی دھماکوں کی اطلاعات آرہی ہیں۔

    • Share this:
      (Ukraine Russia Crisis): واشنگٹن۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن (Vladimir Putin) نے بالآخر یوکرین کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ ولادیمیر پوتن نے جمعرات کی صبح روسی ٹیلی ویژن پر ایک بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین میں ایک خصوصی فوجی آپریشن شروع کر رہے ہیں، جس کا مقصد غیر فوجی کارروائی (demilitarization) ہے۔ ہمارا مقصد پورے یوکرین پر قبضہ کرنا نہیں ہے۔ پوتن نے نام لیے بغیر امریکہ اور نیٹو کو بھی دھمکی دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آپریشن میں مداخلت کرنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ پوتن کی دھمکی کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن  (Joe Biden) نے کہا کہ اب ہم پیچھے نہیں رہیں گے۔ مناسب جواب دیا جائے گا۔

      سی این این کی رپورٹ کے مطابق پوتن کے اس بیان کے بعد ہی یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 11 شہروں میں دھماکے ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقے سے بھی دھماکوں کی اطلاعات آرہی ہیں۔


      روسی حملے کے بعد یوکرین میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ یوکرین کی جانب سے جنگ روکنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دارالحکومت کیف کے ہوائی اڈے کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

      مداخلت کی اور اپنے لوگوں کو ڈرایا تو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
      پوتن نے کہا کہ اگر کسی نے یوکرین اور روس کے درمیان مداخلت کی کوشش کی، ہمارے لوگوں اور ہمارے ملک کو ڈرانے کی کوشش کی تو انہیں بتا دیں کہ روس اس کا فوری جواب دے گا۔ انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ ہم کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں۔

      بائیڈن نے کہا - 'انسانیت کو نتائج بھگتنا ہوں گے، تباہی مچ جائے گی'
      پوتن کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اس اقدام کی مذمت کی۔ بائیڈن نے کہا- 'پوتن کے فیصلے کے بہت برے نتائج ہوں گے۔ اس فیصلے کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا، لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو جائیں گی۔ اس حملے سے ہونے والی تباہی اور جتنی جانیں ضائع ہوں گی اس کا ذمہ دار اکیلا روس ہی ہوگا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس وقت ایک ہیں اور اس فیصلے کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ دنیا روس کا ذمے دار ٹھہرائے گی ۔

      اقوام متحدہ کی طرف سے امن کی اپیل
      اقوام متحدہ سے امن کی اپیل کی گئی ہے۔ جنگ کے خطرے کے درمیان فرانس نے بدھ کے روز اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے یوکرین چھوڑ دیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی سرحدوں پر روسی فوجیوں کے جمع ہونے سے شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ دو علیحدگی پسند علاقوں کو روس نے تسلیم کر لیا ہے اور یوکرین نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اس لیے یوکرین میں موجود فرانسیسی شہریوں کو بلا تاخیر ملک چھوڑ دینا چاہئے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: