உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia سے تیل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا دنیا کو نئی مصیبت میں ڈال دے گا؟

    یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر روس بین الاقوامی سپلائی پر پابندی لگاتا ہے تو یقیناً دنیا کی معیشت پر بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس بحران کی آواز خام تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں میں سنائی دے رہی ہے۔ روس کے رویے سے واضح ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں، نہ میدان جنگ میں اور نہ ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں، لیکن یہ فیصلہ مہنگائی کے بحران سے دوچار امریکہ کے لیے بہت مہلک ثابت ہونے والا ہے۔

    یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر روس بین الاقوامی سپلائی پر پابندی لگاتا ہے تو یقیناً دنیا کی معیشت پر بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس بحران کی آواز خام تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں میں سنائی دے رہی ہے۔ روس کے رویے سے واضح ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں، نہ میدان جنگ میں اور نہ ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں، لیکن یہ فیصلہ مہنگائی کے بحران سے دوچار امریکہ کے لیے بہت مہلک ثابت ہونے والا ہے۔

    یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر روس بین الاقوامی سپلائی پر پابندی لگاتا ہے تو یقیناً دنیا کی معیشت پر بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس بحران کی آواز خام تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں میں سنائی دے رہی ہے۔ روس کے رویے سے واضح ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں، نہ میدان جنگ میں اور نہ ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں، لیکن یہ فیصلہ مہنگائی کے بحران سے دوچار امریکہ کے لیے بہت مہلک ثابت ہونے والا ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن:Russia-Ukraine War: روس نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کا ثبوت پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے اور اب وہ تیل کی قیمتوں کو آگ لگا کر دنیا بھر کے ممالک کی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ روس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جو یومیہ 8 ملین بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ روس دنیا کے 80 ممالک کو خام تیل فراہم کرتا ہے جس میں سے 25 فیصد تیل یورپ اور 15 فیصد چین اور 2 فیصد ہندوستان استعمال کرتا ہے۔

      امریکہ اپنی ضرورت کا تقریباً 8 سے 10 فیصد تیل روس سے درآمد کرتا ہے جو تقریباً 6 لاکھ 72 ہزار بیرل یومیہ تھا۔ ایک امریکی بیرل میں تقریباً 119 لیٹر تیل ہوتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند ماہ میں امریکا نے روس سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں مسلسل کمی کی ہے۔ امریکی پابندیوں کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی لیکن اس کے باوجود روس پر پابندیوں کا دور جاری ہے۔ امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی روس پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے سال کے آخر تک روسی تیل کی درآمدات منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ورلڈ اکنامک فورم نے Russiaپر کی بڑی کارروائی، توڑ دئیے رشتے،داوس سمٹ میں روس کی انٹری بند

      روس کی یوروپ کو دھمکی!
      حال ہی میں روس نے دھمکی دی تھی کہ وہ یورپ کو گیس کی سپلائی روک دے گا۔ اس کے علاوہ اگر روس چاہے تو خام تیل کی قیمت 300 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ یہ بالکل واضح ہے کہ اگر روسی تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے عالمی منڈی پر سنگین نتائج ہوں گے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوگا، جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستان: خطرے میں عمران خان کی حکومت، اپوزیشن لارہی ہے تحریک عدم اعتماد، کیوں آئی نوبت

      دنیا بھر کی معیشت پر ہوسکتی ہے بحران کا شکار
      ایسے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر روس بین الاقوامی سپلائی پر پابندی لگاتا ہے تو یقیناً دنیا کی معیشت پر بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس بحران کی آواز خام تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں میں سنائی دے رہی ہے۔ روس کے رویے سے واضح ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں، نہ میدان جنگ میں اور نہ ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں، لیکن یہ فیصلہ مہنگائی کے بحران سے دوچار امریکہ کے لیے بہت مہلک ثابت ہونے والا ہے۔ کیونکہ امریکہ پہلے ہی 40 سالوں میں سب سے زیادہ مہنگائی سے لڑ رہا ہے اور پٹرول کی قیمتیں 14 سالوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ لیکن اس کے بعد بھی امریکہ نے روس سے تیل نہ خریدنے کا اعلان کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: