உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس - یوکرین جنگ: 14 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے چھوڑا ملک، مغربی ممالک کو ولادیمیر پتن کی وارننگ

    روس - یوکرین جنگ: 14 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے چھوڑا ملک

    روس - یوکرین جنگ: 14 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے چھوڑا ملک

    Russia Ukraine War: بین الاقوامی مائیگریشن آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد یوکرین چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد 14.5 لاکھ پہنچ گئی ہے۔ یوکرین سے لوگ جن ممالک میں پہنچے ہیں، وہان کی حکومتوں سے موصول ہونے والے اعدادوشمارکا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی ایجنسی نے ہفتہ کے روز کہا کہ ان میں سے 7,87,300 پولینڈ جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 2,28,700 افراد مالڈووا، 1,44,700 افراد ہنگری، 1,32,600 افراد رومانیہ اور 1,00,500 افراد سلواکیہ گئے ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ 138 ممالک کے شہری یوکرین کی سرحد عبور کر کے پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔

    • Share this:
      یوکرین پر روس کے حملے کا ہفتہ کے روز دسواں دن ہے۔ اس درمیان، روس کے صدر ولادیمیر پتن نے کہا کہ یوکرین پر نو فلائی زون کی کسی بھی تیسرے فریق کے اعلان کا روس مسلح جنگ بندی میں شرکت پر غور کریں گے۔ ولادیمیر پتن کا یہ بیان سیدھے الفاظ میں ان ممالک کے لئے وارننگ کی طرح ہے، جو یوکرین کی فوجی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

      یوکرین کے افسران نے کہا کہ روس کے ذریعہ جنگ بندی کا اعلان کرنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی گولہ باری شروع ہوگئی، جس سے دو شہروں سے لوگوں کو نکالنے کے عمل میں رخنہ اندازی ہوئی۔ اس سے پہلے روس کے وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جنوب مشرق میں واقع اسٹریٹجک طور پر اہم بندرگاہ میموریل اور مشرق میں واقع وولنو واکھا شہر میں لوگوں کو نکالنے کے لئے راستہ دینے کے لئے رضا مند ہے۔

      ہندوستان نے کہا کہ وہ جنگ سے متاثرہ یوکرین کے مشرقی شہر صومی میں پھنسے ہندوستانیوں کو لے کر ’کافی فکرمند‘ ہے اور اس نے روس اور یوکرین، دونوں سے فوری جنگ بندی کرنے کو کہا ہے تاکہ جدوجہد والے علاقوں سے لوگوں کو محفوظ نکالا جاسکے۔ وزارت دفاع کے ترجمان ارندم باغچی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت کی پریشانیوں اور ان کی من کی صورتحال کو سمجھتی ہیں اور انہیں وہاں سے نکالنے کے لئے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔

      یوکرین پر حملے کے خلاف روس میں گھریلو سطح پر ہو رہی مخالفت ولادیمیر پتن کے لئے تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔ عام عوام جنگ کے خلاف میں سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ روس کے ایک حقوق انسانی تنظیم او وی ڈی-انفو کے مطابق، یوکرین پر روس کے حملے کے پہلے ہفتے میں پولیس نے جنگ کی مخالفت میں احتجاج کرنے والے کم ازکم 7,669 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ سینٹ پیٹرس برگ میں حراست میں لئے گئے لوگوں میں چھوٹے بچوں سے لے کر بزرگ تک، سبھی شامل ہیں۔

      جیل میں بند اپوزیشن لیڈر ایلکسی نولنی نے پتن کو ’پاگل جار (راجا)، بتاتے ہوئے روس کے اندر اور باہر احتجاج کی اپیل کی ہے۔ دانشوروں اور ثقافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے بھی جنگ بندی کی مخالفت کی ہے۔ ٹی وی پر آنے والے سیلبرٹی، کھلاڑیوں سے لے کر سائنسدانوں نے بھی ولادیمیر پتن کے اس قدم کی مخالفت کی ہے۔ مشہور لوگوں نے نجی طور پر بیان جاری کرنے کے ساتھ ساتھ کھلے عام خطوط پر بھی دستخط کئے ہیں، جن پر ملک کے 44 ٹاپ شطرنج کھلاڑیوں اور ماہرین تعلیم کے دستخط ہیں۔ 

      یہ بھی پڑھیں۔

      روس کے خلاف پابندی لگانا جنگ کے آغاز جیسا، جانئے 10 ویں دن پوتن نے کیا کہا

      بین الاقوامی ہجرت کی تنظیم نے کہا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد یوکرین چھوڑ کر جانے والے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 14.5 لاکھ پہنچ گئی ہے۔ یوکرین سے لوگ جن ممالک میں پہنچے ہیں، وہاں کی سرکاروں سے حاصل اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی ایجنسی نے ہفتہ کو کہا کہ ان میں سے 7,87,300 لوگ پولینڈ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 2,28,700 لوگ مولڈووا، 1,44,700 لوگ ہنگری، 1,32,600 لوگ رومانیا اور 1,00,500 لوگ سلوواکیہ گئے ہیں۔

      روس نے فوری اثر سے ایک سینسر شپ کے تحت ملک میں فیس بک پر پابندی لگا دی۔ جواب میں مول کمپنی میٹا نے روس میں سبھی اشتہارات پر روک لگا دی ہے۔ میٹا نے کہا کہ پابندی لگانے سے روس میں لوگوں کو فیس بک کے آپریٹنگ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہیں اب کمپنی روس میں اشتہارات پر روک لگائے گی اور روس کے مشتہر دنیا میں کہیں بھی اشتہار نہیں دے پائیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: