உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: روس اور یوکرین تنازعہ نے بین الاقوامی نظام کی جڑیں ہلا دی: جاپانی وزیر اعظم کشیڈا

    Youtube Video

    جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ یوکرین پر روسی حملہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے جس نے بین الاقوامی نظام کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ہمیں اس معاملے کو مضبوط عزم کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
      جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیڈا (Fumio Kishida) نے یوکرین پر روس کے حملے کو بین الاقوامی نظام کی جڑوں کو ہلا دینے کے طور پر بیان کیا ہے۔ یوکرین کی صورتحال وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) اور ان کے جاپانی ہم منصب کے درمیان ہفتہ کو ہونے والی دو طرفہ بات چیت کا حصہ تھی، جو کہ 14 ویں ہندستان- جاپان سربراہی اجلاس (14th India-Japan summit) کا حصہ ہے۔

      جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ یوکرین پر روسی حملہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے جس نے بین الاقوامی نظام کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ہمیں اس معاملے کو مضبوط عزم کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔

      دونوں رہنماؤں نے جنگ زدہ ملک میں تشدد کے فوری خاتمے پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ بحران کے حل کا واحد راستہ مذاکرات کا راستہ ہے۔ انہوں نے یوکرین میں جوہری تنصیبات کی حفاظت اور حفاظت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی فعال کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔

      کواڈ لیڈر ہونے کے ناطے انہوں نے ہند-بحرالکاہل خطے میں روس-یوکرین تنازعہ کے مضمرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اپنی دو طرفہ ملاقات کے بعد ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی اور کشیدا نے یوکرین پر روسی حملے کو "سنگین" قرار دیا۔

      یہ بھی پڑھئے :  روس کے صدر پوتن کو 'سائیکوپیتھ' کہنے والی ماڈل کا قتل، سوٹ کیس میں ملی لاش!


      واضح رہے کہ وکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کو 20 دنوں سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے ۔ اس درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن (Vladimir Putin) کو لے کر ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پوتن نے جنگ بحران (Russia Ukraine crisis) کے درمیان اپنے پرسنل اسٹاف کے تقریبا ایک ہزار ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے ۔ پوتن نے ان لوگوں کی جگہ پر نئے لوگوں کو بھرتی کیا ہے ۔

      روسی میڈیا کے مطابق صدر پوتن کو کھانے میں زہر دے کر قتل کرنے کا شک ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ پوتن نے اپنے پرسنل اسٹاف میں اتنی بڑی تبدیلی قتل کے ڈر سے کی ہے ۔ پچھلے کچھ دنوں میں خفیہ ایجنسیوں نے بھی پوتن کے قتل کے ان پٹ دئے ہیں ، اس سے نمٹنے کیلئے احتیاط بڑھا دی گئی ہے ۔

      یہ بھی پڑھئے :  تین دن میں دوسرے صحافی کی موت، فاکس نیوز کیلئے کرتا تھا کام


       



      غور طلب ہے کہ اس مہینے میں ایک امریکی ممبر پارلیمنٹ نے پوتن کے قتل کی بات کہی تھی ۔ ممبر پارلیمنٹ گراہم کے اس بیان کیلئے انہیں روس اور اپنی پارٹی کی طرف سے پھٹکار بھی لگائی گئی تھی ۔ بتادیں کہ روس میں قتل کا سب سے عام طریقہ کھانے میں زہر دینا ہے ۔ حالانکہ پوتن اب تک اس کو لے کر کافی محتاط ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ پوتن کو جب بھی کھانا دیا جاتا ہے تو پہلے اس کی جانچ ہوتی ہے ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: