உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ، برطانیہ جیسے ممالک نے یوکرین میں اپنے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑا، لیکن ہندوستان نے پوری طاقت جھونکی

    امریکہ، برطانیہ جیسے ممالک نے یوکرین میں اپنے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑا

    امریکہ، برطانیہ جیسے ممالک نے یوکرین میں اپنے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑا

    Russia Ukraine War: یوکرین میں پھنسے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے ہندوستان نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے ہندوستان نے ’آپریشن گنگا‘ مہم شروع کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے یوکرین سے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کے لئے مغربی شہر کراکووک کے ساتھ ہی ہنگری میں جہونی سرحد چوکی، پولینڈ میں  شینی-میدیکا سرحدی چوکیوں، سلوواک جمہوریہ میں وسنے نیمیکے اور رومانیہ میں سکیوا پارگمن چوکی پر افسران کی ٹیم تعینات کی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: روس کے حملے سے یوکرین میں کئی ممالک کے شہری پھنس گئے ہیں۔ کچھ ملک تو ایسے ہیں، جنہوں نے اپنے شہریوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں، لیکن ہندوستان نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے ہندوستان نے ’آپریشن گنگا‘ مہم شروع کی ہے۔

      اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے یوکرین سے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کے لئے مغربی شہر کروکووک کے ساتھ ہی ہنگری میں جہونی سرحد چوکی، پولینڈ میں شینی-میدیکا سرحدی چوکیوں، سلوواک جمہوریہ میں وسنے نیمیکے اور رومانیہ میں سکیوا پارگمن چوکی پر افسران کی ٹیم تعینات کی ہے۔ یوکرین کے پڑوسی ممالک کے ساتھ سفارت خانہ پہنچ کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت یہ یقینی کر رہی ہے کہ ہمارے شہری محفوظ گھر لوٹ رہے ہیں، لیکن دیگر ممالک اپنے شہریوں کو جنگ کے چنگل سے بچانے کے معاملے میں کیسا احتجاج کر رہے ہیں۔

      تقریباً 6,000 چینی شہریوں کے یوکرین میں پھنسنے کے ساتھ ہی بیجنگ نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے ایک چارٹرڈ طیارہ کا اعلان کیا ہے۔ اس نے کیو چھوڑنے والے شہریوں سے چینی پرچم جیسے شناختی نشان کو دکھانے کی بھی اپیل کی ہے۔ حالانکہ چین نے اپنے شہریوں کو جنگ سے متاثر یوکرین سے نکالنے کا منصوبہ فی الحال ملتوی کردیا ہے، جبکہ ہندوستان کا آپریشن گنگا جنگی سطح پر چل رہا ہے۔ یوکرین کے چینی سفارت خانہ نے 27 فروری کو ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات شہریوں کو یہاں سے نکالنے کے لئے بہت غیر محفوظ تھے۔

      سفیر نے ان افواہوں کو بھی مسترد کر دیا کہ وہ کیو سے چلے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جنگ متاثرہ ملک میں پھنسے چینی شہریوں کو یقین دہائی کرائی کہ انہیں وہاں سے رہا نہیں کیا گیا ہے۔ چین نے یوکرین میں پھنسے شہریوں کے لئے کوئی ٹریول ایڈوائزری یا سپورٹ میکنزم جاری نہیں کیا ہے، جبکہ انڈیا نے رابطہ نمبر، ایڈوائزری اور سپورٹ میکنزم جاری کیا ہے۔ یوکرین میں چینی شہریوں پر حملے کئے جا رہے ہیں جب کہ ہندوستانی پرچم والی بسوں کو محفوظ راستہ دیا جا رہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: