உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس اور یوکرین کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے گا ہندوستان؟ ’ہچکچاتے ہوئے‘ بائیڈن نے دیا یہ جواب

    امریکہ نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ وہ یوکرین میں اپنی فوج نہیں اتارے گا۔

    امریکہ نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ وہ یوکرین میں اپنی فوج نہیں اتارے گا۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کی رات روسی صدر ولادیمیر پوتن سے تقریباً 25 منٹ تک فون پر بات کی۔ اس دوران مودی نے اصرار کیا کہ کوئی بھی حل بات چیت سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ سفارت کاری کے ذریعے ہی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن:روس اور یوکرین کے درمیان شدید جنگ (Russia-Ukraine war) جاری ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار دنیا کے کئی ممالک اتنے بڑے پیمانے پر اس آمنے سامنے جنگ کو روکنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی مقصد کے لیے جمعرات کی شب تقریباً 25 منٹ تک روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی۔ لیکن امریکہ ہندوستان کی کوششوں سے مطمئن نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب امریکی صدر جو بائیڈن سے روس یوکرین بحران کے حل کی کوششوں میں ہندوستان کے ساتھ رہنے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے بات چیت جاری ہے۔ معاملہ پوری طرح حل نہیں ہوا۔

      امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان امریکہ کا بڑا دفاعی پارٹنر ہونے کے ناطے روس یوکرین بحران کے حل میں امریکہ کے ساتھ ہے؟ اس سوال پر بائیڈن نے کہا کہ ہم ہندوستان سے بات کر رہے ہیں۔ معاملہ پوری طرح حل نہیں ہوا۔ درحقیقت یہ مانا جاتا ہے کہ یوکرین کے بحران کے حوالے سے ہندوستان اور امریکہ کا موقف ایک نہیں ہے۔ ہندوستان کے لیے کسی ایک فریق کی حمایت کرنا ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور روس دونوں ہندوستان کے دوست ہیں۔ ان دونوں کے ساتھ اس کا پرانا رشتہ ہے۔

      تاہم ہندوستان اس بحران کو حل کرنے کے لیے اپنی سطح پر کوششیں کر رہا ہے۔ اس کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کی رات روسی صدر ولادیمیر پوتن سے تقریباً 25 منٹ تک فون پر بات کی۔ اس دوران مودی نے اصرار کیا کہ کوئی بھی حل بات چیت سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ سفارت کاری کے ذریعے ہی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ مودی نے پوٹن سے تشدد کو فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ روس اور نیٹو کے درمیان اختلافات بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: