உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس۔یوکرین جنگ: یوکرین کے کیو میں آج 3 دھماکے، حکومت نے 10 ہزار شہریوں کو دی رائفل 

    زیلنسکی نے بتایا کہ کیف میں گھسے روسیوں کا پہلا نشانہ میں ہی ہوں۔

    زیلنسکی نے بتایا کہ کیف میں گھسے روسیوں کا پہلا نشانہ میں ہی ہوں۔

    Russia-Ukraine War(25 February)Live Update: روس نےآسمان اور زمین دونوں جانب سے یوکرین پر حملہ کر دیا۔ روس کا دعویٰ ہے کہ پہلے دن کی لڑائی میں یوکرین کے 70 فوجی اڈے تباہ کر دیے گئے۔ جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی (volodymyr zelenskyy ) نے کہا کہ پہلے دن لڑائی میں 137 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زیلنسکی نے بتایا کہ کیف میں گھسے روسیوں کا پہلا نشانہ میں ہی ہوں۔

    • Share this:
      Russia-Ukraine War Update:: مشرقی یورپ میں طویل کشیدگی کے بعد جمعرات کی صبح سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہو گئی ہے۔ روس نےآسمان اور زمین دونوں جانب سے یوکرین پر حملہ کر دیا۔ روس کا دعویٰ ہے کہ پہلے دن کی لڑائی میں یوکرین کے 70 فوجی اڈے تباہ کر دیے گئے۔ جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی (volodymyr zelenskyy ) نے کہا کہ پہلے دن لڑائی میں 137 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زیلنسکی نے بتایا کہ کیف میں گھسے روسیوں کا پہلا نشانہ میں ہی ہوں۔

      حالانکہ یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھی دنیا بھر کے ساتھ ساتھ گھریلو ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوکرین پر حملے کے خلاف روس نے درجنوں شہروں میں شدید احتجاج کیا جس کے بعد 1700 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ امریکہ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ یورپ میں 7000 اضافی افواج تعینات کر رہا ہے۔

      روسیوں کا پہلا ٹارگیٹ زیلنسکی: بیان کیا جاری

      جمعہ کی صبح یوکرین کے صدر زیلینسکی نے بھی ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے ہمیں جنگ لڑنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے ملک چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی۔ بتایا کہ وہ کیف میں ہیں اور روسی فوج وہاں داخل ہوچکی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان روسیوں کا پہلا ٹارگیٹ وہی ہیں اور دوسرا ان کا خاندان ہے۔


      10 ہزار شہریوں کو مقابلے کے لیے رائفلیں دی
      یوکرین پر روس کے حملے کا آج دوسرا دن ہے۔ یوکرین کے دارالحکومت کیف میں جمعے کی صبح تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ پوری فوج کو جنگ میں شامل کیا جائے گا۔ ان کی فوج نے 30 روسی ٹینکوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومت نے 18 سے 60 سال کی عمر کے مردوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے۔ بعض رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ یوکرین نے اپنے 10 ہزار شہریوں کو مقابلے کے لیے رائفلیں دی ہیں۔

      جنگ میں پہلے دن 137 لوگوں کی موت، ان لوگوں کو یوکرین چھوڑنے پر روک
      روس کے حملے کے درمیان دارالحکومت کیف سمیت پورے یوکرین سے بڑی تعداد میں لوگ وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ روسی حملے کا جواب دینے والی یوکرین کی حکومت نے 18 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں کے اپنے وطن چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے۔

      امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کی طرح یوکرائن میں بھی ہاتھ کھڑے کر لئے ہیں۔ جو بائیڈن نے یوکرین میں امریکی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی۔


      یوکرین(Ukraine)پر روسی (Russia)حملے کے درمیان بڑی خبر سامنے آگئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ روسی فوج بہت جلد یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کر سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر روسی فوج نے کیف پر قبضہ کر لیا تو روسی فوج آج رات یوکرین میں تختہ پلٹ کر دے گی۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دنیا کی مختصر ترین تختہ پلٹ ہوگا۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی ہے کہ روس یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی(Volodymyr Zelenskyy) کو جنگی قیدی بنا سکتا ہے۔

      آپ کو بتادیں کہ روس گزشتہ 16 گھنٹوں سے یوکرین پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ روسی فوج، فضائیہ پوری طاقت کے ساتھ یوکرین کے تمام اہم مقامات پر بمباری کر رہی ہے۔ روس کے ہیلی کاپٹر یوکرین کے آسمان پر مسلسل منڈلا رہے ہیں۔ ٹینک اور توپیں زمین پر اپنی طاقت دکھا رہی ہیں۔ اس وقت پورے یوکرین میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ روس نے یوکرین کو تین اطراف سے گھیر لیا ہے۔ اس کی شروعات کل صبح اُس وقت ہوئی جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی ڈونباس میں فوجی کارروائی کا اعلان کیا۔ اگلے ہی لمحے یوکرین پر میزائلوں سے حملہ کر دیا گیا۔

      ٹینک اور روسی فوج 3 اطراف سے یوکرین میں داخل ہوئی۔ اس کے بعد روسی فوج نے لڑاکا طیاروں، اٹیک ہیلی کاپٹروں سے یوکرین کے مشرقی، شمالی اور جنوبی علاقوں کو گھیرے میں لے لیا اور بمباری کی، خاص طور پر بیلاروس سے شمالی علاقے سے یوکرین میں انٹری ہوئی۔ جنوبی حصے میں روسی فوج نے کریمیا سے انٹری لے لی۔ اس کے علاوہ روسی فوج یوکرین کی مشرقی سمت سے یوکرین میں داخل ہوئی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: