உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماریوپول میں روسی فوج کا Maternity Hospital پر حملہ، ملبے میں دبے کئی معصوم

    صدر زیلنسکی نے واقعے پر ٹویٹ کیا اور لکھا کہ اس ملبے کے نیچے کچھ بچے بھی ہیں۔ یہ حملہ ظلم نہیں ہے۔ زیلنسکی اس حملے سے اتنے زخمی ہیں کہ اس نے اپنا غصہ پوری دنیا پر نکالا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے واقعے پر ٹویٹ کیا اور لکھا کہ اس ملبے کے نیچے کچھ بچے بھی ہیں۔ یہ حملہ ظلم نہیں ہے۔ زیلنسکی اس حملے سے اتنے زخمی ہیں کہ اس نے اپنا غصہ پوری دنیا پر نکالا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے واقعے پر ٹویٹ کیا اور لکھا کہ اس ملبے کے نیچے کچھ بچے بھی ہیں۔ یہ حملہ ظلم نہیں ہے۔ زیلنسکی اس حملے سے اتنے زخمی ہیں کہ اس نے اپنا غصہ پوری دنیا پر نکالا ہے۔

    • Share this:
      کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے اب دھماکہ خیز شکل اختیار کر لی ہے۔ روس کی طرف سے مسلسل دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی رہائشی علاقے پر حملہ نہیں کرے گا، کسی ہسپتال کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ لیکن زمین پر اس کے برعکس دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اب یوکرین کے ماریوپول میں ایک میٹرنٹی ہسپتال پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ روسی فوج کی جانب سے کیے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

      کہا جا رہا ہے کہ اس حملے سے کئی بچے ملبے تلے دب گئے ہیں۔ 17 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہسپتال کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ صدر زیلنسکی نے واقعے پر ٹویٹ کیا اور لکھا کہ اس ملبے کے نیچے کچھ بچے بھی ہیں۔ یہ حملہ ظلم نہیں ہے۔ زیلنسکی اس حملے سے اتنے زخمی ہیں کہ اس نے اپنا غصہ پوری دنیا پر نکالا ہے۔


      یہ بھی پڑھیں:
      ورلڈ اکنامک فورم نے Russiaپر کی بڑی کارروائی، توڑ دئیے رشتے،داوس سمٹ میں روس کی انٹری بند

      انہوں نے مزید لکھا کہ دنیا کب تک اس دہشت گردی کو نظر انداز کرے گی، کب تک اس کے خلاف خاموشی اختیار کرے گی۔ اس ظلم کو فی الفور بند کیا جائے۔ اب اس سے پہلے بھی روسی فوج کی جانب سے رہائشی علاقوں میں حملہ ہو چکا ہے۔ ہسپتال سے لے کر بازار تک کئی مقامات پر روسی فوج کی طرف سے بمباری دیکھی گئی ہے۔ یوکرین کے صدر نے ہر بار کہا ہے کہ روسی فوج اس وقت عام لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War:امریکہ نے روس سے گیس اور تیل پر لگائی پابندی، صدر جوبائیڈن نے کیا اعلان

      ویسے جمعرات کو یوکرین کے صدر نے سخت رویہ ظاہر کرتے ہوئے صاف کہہ دیا تھا کہ روسی فوج کو یوکرین کی سرزمین سے نکلنا پڑے گا۔ یوکرین کے فوجی اپنی آخری سانس تک یہ جنگ لڑیں گے۔ اس سخت رویے کے علاوہ ان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ امن چاہتے ہیں۔ وہ ایک بار پھر روس سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: