உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine Russia War: روس کے خلاف پابندی لگانا جنگ کے آغاز جیسا ، جانئے 10 ویں دن پوتن نے کیا کہا

    Ukraine Russia War: روس کے خلاف پابندی لگانا جنگ کے آغاز جیسا ، جانئے 10 ویں پوتن نے کیا کہا

    Ukraine Russia War: روس کے خلاف پابندی لگانا جنگ کے آغاز جیسا ، جانئے 10 ویں پوتن نے کیا کہا

    Ukraine Russia War : پوتن نے تلخ لہجہ میں کہا کہ روس پر سخت پابندیاں لگانا جنگ کے اعلان کے برابر ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یوکرین کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا کام تقریبا ختم ہوچکا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا روس میں مارشل لا لگے گا، پوتن نے کہا کہ اس کی ملک میں ضرورت نہیں پڑے گی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : روس ۔ یوکرین جنگ کے 10ویں دن روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر کئے الزامات لگائے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈونباس معاملہ کو انہوں نے پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی تھی ، لیکن کیف نے اس میں رکاوٹیں پیدا کیں ۔ اسپوتنک نیوز کی خبر کے مطابق پوتن نے تلخ لہجہ میں کہا کہ روس پر سخت پابندیاں لگانا جنگ کے اعلان کے برابر ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یوکرین کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا کام تقریبا ختم ہوچکا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا روس میں مارشل لا لگے گا، پوتن نے کہا کہ اس کی ملک میں ضرورت نہیں پڑے گی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: یوکرین میں رونے لگا روسی فوج کا جوان، لوگوں نے دیا کھانا اور ماں سے کروائی بات، ویڈیو وائرل


      ادھر یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ بھلے ہی روس نے ماریوپول اور وولنوواکھا شہر میں سیزفائر کا اعلان کردیا ہو ، لیکن اس کی گولہ باری جاری ہے ، جس سے شہریوں کو محفوظ نکاسی کا راستہ دینے کا کام نہیں ہوپارہا ہے ۔ یوکرین نے روس پر سیز فائر توڑنے کا الزام لگایا ہے ۔ روسی حملے بعد سے اب تک بارہ لاکھ افراد پڑوسی ممالک کی طرف بھاگ چکے ہیں ۔ اس سے عوام کو پانچ گھنٹے کے سائلینس پیریڈ میں شہر سے جانے کا موقع دیا گیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  'یوکرین کا برا دور ابھی باقی...' پوتن سے 90 منٹ کی گفتگو کے بعد فرانسیسی صدر نے دنیا کو کیا خبردار


      یوکرین کا کہنا ہے کہ ہم ماریوپول شہر میں انسانی المیہ کا سامنا کررہے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ گھیرابندی ختم کی جائے تاکہ عوام تک مدد پہنچائی جاسکے ۔ شہر کے میئر نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے سیز فائر کے ساتھ کھانا اور دواوں کی رسائی کیلئے انسانی کاریڈور کے مطالبہ کا اعادہ کیا ۔

      خیال رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ تبھی سے اس کی فوج یوکرین کے کئی ممالک میں بھیانک بمباری کررہی ہے ۔ اس میں سیکڑوں کی تعداد میں بے قصور شہریوں کی بھی موت ہوئی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: