உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سوشل میڈ یا پر روس کا شکنجہ، Facebook, BBC, Twitter اورایپ اسٹورز پرلگ گئی روک

    روس میں لوگوں کے لیے مالیاتی لین دین میں رکاوٹ ہورہی ہے۔

    روس میں لوگوں کے لیے مالیاتی لین دین میں رکاوٹ ہورہی ہے۔

    ان کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لوگوں نے روس کے بارے میں بات کی ہے کہ وہ یوکرین اور دنیا کے دیگر حصوں سے معلومات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کر رہا ہے۔ بہر حال روس کو گزشتہ چند دنوں میں امریکی حکومت کے ساتھ ساتھ یورپی یونین (EU) کی جانب سے متعدد پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    • Share this:
      جمعہ کو پیش کی جانے والی رپورٹس کے مطابق روس نے فیس بک (Facebook)، ٹویٹر (Twitter) اور بی بی سی (BBC) جیسے پلیٹ فارمز اور یہاں تک کہ ایپ اسٹورز (App Stores) تک رسائی کو روک دیا ہے۔ ڈیپ سپیگل کے صحافی میتھیو وان روہر نے جمعہ کو اس ٹویٹ کے ذریعے معلومات فراہم کی ہیں۔

      ان کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لوگوں نے روس کے بارے میں بات کی ہے کہ وہ یوکرین اور دنیا کے دیگر حصوں سے معلومات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کر رہا ہے۔ بہر حال روس کو گزشتہ چند دنوں میں امریکی حکومت کے ساتھ ساتھ یورپی یونین (EU) کی جانب سے متعدد پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہاں تک کہ یوکرین نے ایپل سے کہا کہ وہ روس میں اپنی مصنوعات کی فروخت بند کردے، جو کہ آخر کار کمپنی نے انٹرنیٹ پر لوگوں کے ردعمل کے نتیجے میں کیا۔

      Russia-Ukraine War: ہندوستانیوں نےکی فوری انخلا کی درخواست! یوکرین میں پانی اوربجلی کی قلت کا سامنا





      اسی طرح فیفا (FIFA) اور یو ای ایف اے (UEFA) نے روسی قومی ٹیم اور دیگر فٹ بال کلبوں کو فیفا 22 ویڈیو گیم سے نکال دیا ہے۔ یوکرین کی وزارت نے بھی اس ہفتے کے شروع میں ICANN سے رابطہ کیا، ان سے روسی ویب سائٹس اور سرورز کو بند کرنے کو کہا گیا ہے لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ ICANN نے منصفانہ پالیسیوں کی بنیاد پر درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

      مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر میںVillage defence committees کو دوبارہ بحال کئے جانے کا دیا حکم



      ایپل پے اور گوگل پے جیسی ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات کو بھی پچھلے کچھ دنوں میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے روس میں لوگوں کے لیے مالیاتی لین دین میں رکاوٹ ہے۔

      یوکرین کے شہر سومی (Sumy) میں ہندوستانی طلبا نے حکام سے اپیل کی کہ وہ ان کے انخلا لیے مدد کریں، کیونکہ انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک طالب علم ایزابیل نے CNNNews18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 600 سے زیادہ ہندوستانی طلبا بنکروں میں موجود ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ روس کی مسلسل گولہ باری کی وجہ سے شہر میں بجلی، اور پانی کے نظام بند ہو گئے ہیں۔ طالب علم کا کہنا تھا کہ مسلسل لڑائیوں کے ساتھ ساتھ حملوں کی وجہ سے سمی کی صورتحال خطرناک ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: