உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماحولیاتی تبدیلی کو بین الاقوامی سلامتی سے جوڑنے والے UN کی تجویز کے خلاف روس نے کیا ویٹو کا استعمال، ہندوستان میں مخالفت میں ساتھ کھڑا ہوا

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔ (Vladimir Putin)۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔ (Vladimir Putin)۔

    ہندوستان نے اس کے خلاف ووٹ کیا اور ویٹو کا اختیار رکھنے والے روس نے اسے ویٹو کیا اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ (Vote on UN Resolution). روس اور ہندوستان کے نمائندوں نے کہا کہ یہ مدعا کلائمٹ چینج پر فریم ورک کنونشن جیسے اقوام متحدہ گروپوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔

    • Share this:
      Russia Used Veto Power in UN: روس نے ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کو بین الاقوامی امن اور سلامتی (Global Security) کے لئے خطرہ بتانے والے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اپنی طرح کی پہلی تجویز کے خلاف ویٹو کا استعمال کیا۔ آئرلینڈ اور نائیجر کی قیادت میں پیش کیے گئے اس ریزولیشن نے ’کلائمٹ چینج کے سیکورٹی اثرات سے متعلق جانکاری شامل کرنے کرنے‘ کی اپیل کی تھی تا کہ کونسل ’جدوجہد یا خطرہ والے وجوہات پر مناسب دھیان دے پائیں۔‘

      اس تجویز مین اقوام متحدہ جنرل سکریٹری سے کلائمٹ چینج سے معلق سیکورٹی خطرات کو جدوجہد تنازعات کے حل کی حکمت عملی کا ’ایک سنٹرل گروپ’ بنانے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔ کونسل کے سابقہ تجاویز میں مختلف افریقی ممالک (African Countries) اور عراق جیسے مخصوص مقامات میں ماحولیاتی تبدیل کو مستحکم کرنے والے اثرات کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن پیر کی تجویز پہلی تجویز ہے، جس میں کلائمٹ چینج سے متعلق سیکورٹی خطرات کو خود ایک مدعا بنایا گیا ہے۔

      113 ملکوں نے کی حمایت
      اقوام متحدہ کے 193 ارکان ملکوں میں سے 113 ملکوں نے اس کی حمایت کی ہے، جن میں سیکورٹی کونسل کے 15 سے 12 ملک شامل تھے۔ ہندوستان نے اس کے خلاف ووٹ کیا اور ویٹو کا اختیار رکھنے والے روس نے اسے ویٹو کیا اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ (Vote on UN Resolution). روس اور ہندوستان کے نمائندوں نے کہا کہ یہ مدعا کلائمٹ چینج پر فریم ورک کنونشن جیسے اقوام متحدہ گروپوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔ کہا گیا ہے کہ سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے میں کلائمٹ چینج کو جوڑنے سے صرف عالمی تقسیم مزید گہری ہوگی، جس کا پچھلے مہینے اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بات چیت میں ذکر کیا گیا تھا۔

      حامیوں کا کیا کہنا ہے؟
      ریزولیشن کے حامیوں نے کہا ہے کہ یہ حقیقت کے اہم مدعوں پر مناسب قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔ روسی سفیر وسیلی نیمبیجیا نے کہا، ’ ماحولیاتی تبدیلی کو عالمی سلامتی کے لئے خطرہ بتانے سے کونسل کا دھیان اُس کے ایجنڈے مین شامل ملکں میں جدوجہد کے حقیقی اور گہرے وجوہات سے ہٹ جاتا ہے۔ اس میں سائنسداں اور اقتصادی معاملوں کو سیاسی سوال میں بدل دیا گیا ہے۔ یہ کونسل کو دنیا پر تقریباً کسی بھی ملک میں مداخلت کرنے کا بہانہ دے رہا ہے۔‘



      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: