உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UNSC میں مذمتی تجویز پر ویٹو سے روس نے پھر بتائے تیور، ووٹنگ سے دور رہے ہندوستان-چین

    UNSC میں مذمتی قرارداد پر ویٹو سے روس نے پھر بتائے تیور، ووٹنگ سے دور رہے ہندوستان-چین

    UNSC میں مذمتی قرارداد پر ویٹو سے روس نے پھر بتائے تیور، ووٹنگ سے دور رہے ہندوستان-چین

    یو این ایس سی میں اقوام متحدہ کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے کہا کہ کسی بھی قسم کی بیان بازی سے کشیدگی کو بڑھانا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      روسی صدر ولادیمیر پوتن کے جمعہ کو چار یوکرینی علاقوں کے روس میں الحاق کے اعلان کے بعد امریکہ، اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک نے شدید مذمت کی۔ اس کے بعد اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں یوکرین کے چار علاقوں میں قبضے کو لے کر روس کی مذمت کی تجویز پر ووٹنگ ہوئی جس کو روس نے ویٹو کردیا۔

      امریکہ کی جانب سے لائی گئی اس تجویز کی البانیا نے حمایت کی۔ اس تجویز میں یوکرین کے وجود اور علاقائی سالمیت کے تئیں اقوام متحدہ کے عزم کو دوہرایا گیا۔ روس کی جانب سے ویٹو کیے جانے کی وجہ سے یہ تجویز قبول نہیں ہوسکی۔ 15 ملکوں کی سیکورٹی کونسل میں سے 10 ملکوں نے تجویز کے لئے ووٹنگ کی اور چار ممالک نے حصہ نہیں لیا جن میں چین، ہنودستان، برازیل اور گیبان شامل تھے۔


      ہندوستان نے کہا- بیٹھ کر بات چیت سے حل نکلنا چاہیے
      یو این ایس سی میں اقوام متحدہ کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے کہا کہ کسی بھی قسم کی بیان بازی سے کشیدگی کو بڑھانا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرکے حل نکالیں۔ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان نے اس تجویز سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      برطانیہ کے وزیر خارجہ ہند پیسیفک خطے کے ساتھ قریبی تعلقات کے خواہاں، 2030 تک انڈو پیسی

      یہ بھی پڑھیں:
      امریکہ میں طوفان ’ایان‘ کا قہر، سڑکوں پر نظر آئی شارک، فلوریڈا میں سیلاب اور بجلی کابحران

      انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان یوکرین میں حالیہ واقعات سے سخت پریشان ہے۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ بات چیت کے ذریعے حل تلاش کیا جائے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم مودی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ جنگ کا دور نہیں ہو سکتا۔ اسی دوران ہندوستان کی روچیرا کمبوج کی تقریر کے دوران روس کے نمائندے فون میں کچھ کرتے دکھائی دئیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: