உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraineکو ہتھیاروں کی سپلائی پر روس چراغ پا، امریکہ اور ناٹو کو دی دھمکی، برطانیہ کے پی ایم سمیت کئی لیڈروں پر لگایا بین

    Ukraine Russia War: روس نے ناٹو، امریکہ اور برطانیہ کو دی دھمکی۔ لگائی پابندیاں۔

    Ukraine Russia War: روس نے ناٹو، امریکہ اور برطانیہ کو دی دھمکی۔ لگائی پابندیاں۔

    خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق روس نے ہفتے کے روز برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن، وزیر داخلہ پریتی پٹیل، وزیر خزانہ رشی سنک سمیت کئی وزراء اور سیاسی رہنماؤں پر پابندی لگا دی ہے۔

    • Share this:
      ماسکو: بحیرہ اسود میں اپنے جنگی جہاز کے ضائع ہونے سے مایوس روس نے یوکرین میں حملے تیز کر دیے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے یوکرین کی مدد اور جنگ طول پکڑتی دیکھ کر روس اب آر پار کے موڈ میں ہے۔ روس نے امریکہ اور نیٹو کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی تو اس کے ’غیر متوقع نتائج‘ ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی روس نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سمیت برطانیہ کے کئی اعلیٰ وزراء اور سیاست دانوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      بورس جانسن اورPM Modiکی ملاقات کے بعد ہوسکتے ہیں کئی اعلانات

      امریکہ اور ناٹو کو روس کی دھمکی
      خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے رپورٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کو اضافی 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد دینے کے اعلان کے بعد، روس نے امریکہ کو ایک نوٹ بھیجا ہے، جس میں ’غیر متوقع نتائج‘ کی وارننگ دی گئی ہے۔ روس نے اس نوٹ میں کہا ہے کہ یوکرین کو امریکہ اور نیٹو کی طرف سے ہتھیاروں کی فراہمی کے غیر متوقع نتائج ہو سکتے ہیں۔ ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی سپلائی بند کر دیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      یوکرین جنگ کے درمیان روس نے ہندوستان کو شروع کی S-400 کی سپلائی، جانیے اس کی خصوصیت

      برطانوی وزیراعظم بورس جانسن پر لگائی پابندی
      خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق روس نے ہفتے کے روز برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن، وزیر داخلہ پریتی پٹیل، وزیر خزانہ رشی سنک سمیت کئی وزراء اور سیاسی رہنماؤں پر پابندی لگا دی ہے۔ برطانیہ پہلے ہی روس پر مختلف پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ ان رہنماؤں پر روس کے دورے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس فہرست میں ناموں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: