உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس نے بھی کی طالبان کی حمایت، کہا- افغانستان کو طالبان نے اب زیادہ محفوظ کر دیا

    افغانستان (Afghanistan) میں روس کے سفیر دمتری جھرنوو (Dmitry Zhirnov) نے کہا کہ طالبان (Taliban) نے پہلے 24 گھنٹوں میں کابل کو سابقہ افسران کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔

    افغانستان (Afghanistan) میں روس کے سفیر دمتری جھرنوو (Dmitry Zhirnov) نے کہا کہ طالبان (Taliban) نے پہلے 24 گھنٹوں میں کابل کو سابقہ افسران کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔

    افغانستان (Afghanistan) میں روس کے سفیر دمتری جھرنوو (Dmitry Zhirnov) نے کہا کہ طالبان (Taliban) نے پہلے 24 گھنٹوں میں کابل کو سابقہ افسران کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) پر طالبان (Taliban) کا قبضہ ہوگیا ہے۔ بیشتر ممالک وہاں سے اپنے سفارت خانے خالی کر رہے ہیں اور اپنے شہریوں کو محفوظ نکالنے میں مصروف ہیں۔ وہیں، چین- پاکستان طالبان کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں روس کا نام بھی جڑ گیا ہے۔ افغانستان میں روس (Russia) کے سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے پہلے کے مقابلے کابل کو زیادہ محفوظ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ روس کے خلاف ہی طالبان کا وجود ہوا تھا۔ اب روس کے ذریعہ اس تنظیم کی حمایت کئے جانے سے دنیا حیران ہے۔

      روس نے کابل میں اپنے سفارت خانے کو خالی کرنے کے کسی بھی منصوبہ سے انکار کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ طالبان حکومت کو منظوری دی جاسکتی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں روس کے سفیر دمتری جھرنوو (Dmitry Zhirnov) نے کہا کہ طالبان نے پہلے 24 گھنٹوں میں کابل کو سابقہ افسران کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔

      روس کے سفیر کے اس بیان کو طالبان کے ساتھ رشتوں وک مضبوط کرنے کی سمت میں ایک بڑے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ روس چاہتا ہے کہ افغانستان میں پھیلے استحکام سینٹرل ایشیا میں نہیں پھیلے، لہٰذا وہ طالبان کے ساتھ اپنے رشتے بہتر کرنا چاہتا ہے۔

      ایسے وجود میں آیا تھا طالبان

      دراصل، روس کے خلاف ہی طالبان بنا تھا۔ 1980 کے ابتدائی دنوں کی بات ہے۔ افغانستان میں سویت یونین کی فوج آچکی تھی۔ اسی کی پناہ میں افغان حکوت چل رہی تھی۔ کئی مجاہدین گروپ فوج اور حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے۔ ان مجاہدین کو امریکہ اور پاکستان سے مدد ملتی تھی۔ 1989 تک سویت یونین نے اپنی فوج واپس بلا لی۔ اس کے خلاف لڑنے والے جنگجو اب آپس میں ہی لڑنے لگے۔ ایسا ہی ایک جنگجو ملا محمد عمر تھا۔ اس نے کچھ پشتون نوجوانوں کو ساتھ لے کر طالبان تحریک کا آغاز کیا۔

      آج طالبان لیڈروں سے ملاقات کریں گے روسی سفیر

      رپورٹ کے مطابق، روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آج روسی سفر طالبان کے اہم لیڈروں کے ساتھ کابل میں ملاقات کریں گے۔ اس دوران روس ’اخلاقیات‘ کی بنیاد پر افغانستان میں نئی حکومت کو منظوری دینے پر فیصلہ کرے گا۔

      چین دے چکا ہے منظوری

      واضح رہے کہ چین نے پیر کو افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کو منظوری دے دی ہے۔ وہیں پاکستان بھی جلد ہی طالبان حکومت کو منظوری دینے کا اعلان کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان مسلسل طالبان کی حمایت کر رہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: