உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس نے آخرکار بتائی جنگ کی وجہ، کہا-جنوبی یوکرین پرقبضہ کرنا ہے اس کا ہدف،UNسربراہ ماسکو میں کریں پوتن سے ملاقات

    یوکرین پر کیوں کیا روس نے حملہ، وجہ آگئی سامنے!

    یوکرین پر کیوں کیا روس نے حملہ، وجہ آگئی سامنے!

    Russia Ukraine War: روسی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے ڈونباس سمیت تقریباً تمام جنوبی یوکرین پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ جنوب کی طرف مالڈووا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ روس کے مطابق فوج نے جنگ کے دوسرے مرحلے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

    • Share this:
      ماسکو:Russia Ukraine War: یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان روس نے بھی اپنے عزائم سے دنیا کو آگاہ کر دیا ہے۔ روسی فوج کے جنرل نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا مقصد جنوبی یوکرین پر قبضہ کرنا ہے۔ روسی فوج کے جنرل کے اس بیان نے ان تمام سابقہ ​​بیانات کو غلط ثابت کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ روس یوکرین کی سرزمین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا۔ دریں اثناء تاس نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ روسی فوج نے خرکیف کے علاقے میں اسلحے کے ایک بڑے ڈپو پر قبضہ کر لیا ہے۔ طاس خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہاں ہزاروں ٹن گولہ بارود اور ہتھیار موجود ہیں۔

      اسی دوران اس جنگ کو روکنے کے مقصد سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس ماسکو کا دورہ کرنے والے ہیں۔وہ 26 اپریل کو ماسکول جائیں گے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      روس نے کیا دسNuclearبم چھوڑنے والی میزائل کا ٹسٹ، پوتن نے بتائی خوبیاں، کہی یہ بڑی بات

      روسی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے ڈونباس سمیت تقریباً تمام جنوبی یوکرین پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ جنوب کی طرف مالڈووا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ روس کے مطابق فوج نے جنگ کے دوسرے مرحلے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ فوج کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے ماسکو کا پہلے سے طے شدہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ روسی فوج کے سینٹرل ملٹری ڈسٹرکٹ کمانڈر رستم منکیف نے کہا کہ اب وہ کریمیا اور یوکرین کے مفتوحہ حصوں کے درمیان زمینی راہداری کی تعمیر کو یقینی بنائیں گے۔ یہ بات انہوں نے سالانہ اجلاس کے دوران کہی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Tata Steelنے لیا بڑا فیصلہ، روس کے ساتھ کاروبار کرنے پر لگائی روک

      مینیکیف نے یہ بھی کہا ہے کہ جنوبی یوکرین کے الحاق کے بعد روس کو یوکرین کے ٹرانسڈنیسٹریا تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ ان کے بقول یہ علاقہ بھی روس کی حمایت کرنے والے لوگوں کا ہے اور یہاں پہلے سے ہی تقریباً 1500 روسی فوجی موجود ہیں۔ کریملن کی جانب سے یوکرین پر الزام لگایا گیا تھا کہ یوکرین کی حکومت نے ان لوگوں کے ساتھ کبھی بھی مساویانہ رویہ نہیں رکھا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا۔ روس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ روسی سرحد پر بحران بڑھانے کا کام نیٹو نے کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: