ہوم » نیوز » عالمی منظر

خاتون صحافی نے پوتن کی مخالفت میں خود سوزی کرلی، بتایا میرے شوہر کے سامنے بغیر کپڑوں کے یہ کرتا رہا پولیس اہلکار

روسی خاتون صحافی ارینا سلاوینا (Irina Slavina) نے ایک فیس بک پوسٹ میں درد شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پولیس نے جمہوریت کے حامی گروپ ’اوپن رشیہ‘ سے متعلق مواد کی تلاش میں ان کے فلیٹ کی تلاشی لی ہے اور ان کا کمپیوٹر اور ڈیٹا ضبط کرلیا ہے۔ مجھے کپڑے بھی نہیں پہننے دئے گئے اور میرے شوہر کی موجودگی میں ایک پولیس والا مجھے اسی حالت میں گھورتا رہا۔ مجھے مجبوری میں اس کی نگرانی میں ہی کپڑے پہننے پڑے'۔

  • Share this:
خاتون صحافی نے پوتن کی مخالفت میں خود سوزی کرلی، بتایا میرے شوہر کے سامنے بغیر کپڑوں کے یہ کرتا رہا پولیس اہلکار
روس میں خاتون صحافی نے وزارتِ داخلہ کی عمارت کے سامنے خود سوزی کر لی

ماسکو: روسی خاتون صحافی ارینا سلاوینا (Irina Slavina) نے جمعے کے روز پوتن حکومت (Vladimir Putin) پر ہ (Harassment) کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خود کو آگ کے حوالے کر دیا۔ ارینا سلاوینا (Irina Slavina) بری طرح جھلس گئی تھیں جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ان کی موت ہوگئی۔ ارینا سلاوینا نے مرنے سے پہلے ایک فیس بک پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے اپنی موت کا ذمہ دار روسی حکومت کو بتایا تھا۔

آر ٹی RT کے مطابق 47 سالہ خاتون صحافی ارینا سلاوینا نے فیس بک پر واضح طور پر لکھا تھا، ’میری موت کی ذمہ دار روسی فیڈریشن (Putin government ) ہے'۔ بتادیں کہ جمعرات کو پولیس نے ارینا سلاوینا کے گھر ہر جاکر چھاپہ ماری کی تھی اور ارینا سلاوینا نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔ (BAZA media) کی ویڈیو میں خاتون صحافی ارینا سلاوینا وزارت داخلہ کے دفتر کے سامنےخود کو آگ لگاتے نظر آرہی ہیں۔ ویڈیو میں کئی لوگ انہیں بچاتے بھی نظر آرہے ہیں لیکن اس دوران وہ بری طرح سے جھلس گئی تھیں۔ ایک آدمی آگ کو بجھانے کے لیے ایک خاتون کی جانب بھاگتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے کوٹ کو آگ روکنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بار بار اسے پیچھے دھکیلتی ہیں اور بالآخر وہ زمین پر گر جاتی ہیں۔


ارینا نے ایک فیس بک پوسٹ میں درد شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پولیس نے جمہوریت کے حامی گروپ ’اوپن رشیہ‘ سے متعلق مواد کی تلاش میں ان کے فلیٹ کی تلاشی لی ہے اور ان کا کمپیوٹر اور ڈیٹا ضبط کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ 'سبھی فلیش ڈرائیو، میرا لیپ ٹاپ، میری بیٹی کا لیپ ٹاپ، میرا ڈیسک ٹاپ، میرے شوہر کا فون اور میری کئی ڈائری زبردستی لے گئے ہیں۔ مجھے اس قابل بنا دیا ہے کہ میں اپنی پریس چلانے لائق بھی نہیں بچی۔ مجھے کپڑے بھی نہیں پہننے دئے گئے اور میرے شوہر کی موجودگی میں ایک پولیس والا مجھے اسی حالت میں گھورتا رہا۔ مجھے مجبوری میں اس کی نگرانی میں ہی کپڑے پہننے پڑے'۔


ارینا سالوینا کوزا پریس کی ایڈیٹر ان چیف تھیں اور انہیں جمہوریت کے حامی صحافیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ نزنی نوگوروڈ میں وزارت داخلہ کی عمارت کے سامنے گور کی سٹریٹ کے ایک بینچ پر سلاوینا کے خود کو آگ لگانے کی فوٹیج سامنے آئی ہے۔ ارینا پر پہلے ہولیس نے فیک نیوز پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد انہیں جائیداد سے متعلق اور دیگر کئی معاملوں میں بھی ملزم بنایا گیا تھا۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 06, 2020 12:59 PM IST