உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ولادیمیر پوتن کا دورہ ہند، کئی معاہدوں پرہوں گے دستخط، دونوں ممالک کے درمیان ٹُو پلس ٹُومذاکرات

    Youtube Video

    اس دوران دونوں ممالک کے درمیان پہلے ٹُو پلس ٹُو۔مذاکرات ہوں گے جس میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ مذاکرات کریں گے۔ اس دوران دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔

    • Share this:
      روسی صدر ولادیمیر پوتن  Russian President Vladimir Putin ہندوستان اور روس کی دہائیوں پرانی دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے آج دہلی آ رہے ہیں۔ کورونا بحران کی وجہ سے پوتن کا ہندوستان کا یہ دورہ بہت مختصر یعنی صرف چند گھنٹے کا رکھا گیا ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان پہلے ٹُو پلس ٹُو۔مذاکرات ہوں گے جس میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ مذاکرات کریں گے۔ اس دوران دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق پی ایم مودی اور صدر پوتن شام ساڑھے پانچ بجے چوٹی بات چیت کا آغاز کریں گے۔ اس سے قبل ہندوستان نے امیٹھی کے کوروا میں پانچ لاکھ سے زیادہ رائفلوں کی تیاری کے لئے طویل عرصے سے زیر التواء اے کے۔ دو سَو تین۔ کلاشنکوف رائفلوں کے سودے کو منظوری دے دی ہے۔ وہیں توقع ہے کہ ہندوستان، روس سے سپر ایڈوانسڈ میزائل ڈیفنس سسٹم ۔ایس۔فائیو ،ہینڈریڈ۔ خرید سکتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان اور روس کے درمیان اس ڈیل پر امریکہ برہم ہے۔

      اس کے برعکس امریکہ ہندوستان پر اس سے مزید دفاعی خریداری کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے اور روس سے S-400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کی خریداری کی وجہ سے CAATSA کی منظوری کا خطرہ برقرار ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ ہندوستان اپنی مشقیں جاری رکھے گا۔ دفاعی خریداریوں میں اسٹریٹجک خود مختاری S-400 کی پہلی ترسیل شروع ہو چکی ہے۔

      دیرینہ تعلقات کو دوسرا بڑا ثمر پہلی 2+2 بات چیت کی صورت میں ملے گا جس میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ شامل ہوں گے۔ روس چوتھا ملک بن جائے گا جس کے ساتھ ہندوستان یہ بات چیت کر رہا ہے، باقی تین کواڈ پارٹنر امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا ہوں گے۔

      لاجسٹکس کے باہمی تبادلے کے معاہدے (RELOS) پر بھی پیر کو دستخط ہونے کی امید ہے۔ اس طرح کے معاہدے فوجیوں کے لیے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے ملک سے دور کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ معاہدہ باہمی بنیادوں پر ایندھن اور دیگر دفعات تک رسائی میں مدد فراہم کرتا ہے۔


      پیر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن (Vladimir Putin) کے دورہ سے قبل ہندوستان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ماسکو اس کا قریبی دفاعی ساتھی رہے گا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ پیوٹن کے دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، ثقافت، دفاع، خلا اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ ان میں سب سے اہم دفاعی شعبہ ہے۔ اس دوران ہندوستان میں روسی AK-203 رائفلز کی تیاری پر بھی بات ہوگی۔
      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: