உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Putin's New Foreign Policy: پوتن کی نئی خارجہ پالیسی، ہندوستان و چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا ذکر

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن

    Putin's New Foreign Policy: اس پالیسی میں دنیا کے دیگر ممالک سے تعلقات کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے۔ یہ روس کی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے۔ جسے کچھ سخت گیر عناصر نے یوکرین کے کچھ حصوں پر ماسکو کے قبضے کو جواز فراہم کرنے اور ملک کے مشرق میں روس نواز اداروں کی حمایت کے لیے استعمال کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inte, IndiaChinaChina
    • Share this:
      صدر ولادیمیر پوتن (Vladimir Putin) نے ’روسی دنیا‘ کے تصور کے گرد مبنی ایک نئی خارجہ پالیسی کو منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت روسی بولنے والوں کی حمایت کی گئی ہے۔ اس میں بیرون ملک مداخلت کا جواز پیش کیا گیا ہے۔ 31 صفحات پر مشتمل پالیسی کو ’’انسانی ہمدردی کی پالیسی‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ پالیسی یوکرین سے جنگ کے چھ ماہ سے زیادہ عرصے میں شائع ہوئی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں روسی دنیا کی روایات اور نظریات کو فروغ دیا جائے گا۔

      اس پالیسی میں دنیا کے دیگر ممالک سے تعلقات کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے۔ یہ روس کی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے۔ جسے کچھ سخت گیر عناصر نے یوکرین کے کچھ حصوں پر ماسکو کے قبضے کو جواز فراہم کرنے اور ملک کے مشرق میں روس نواز اداروں کی حمایت کے لیے استعمال کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      ’’نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی اور جاوید اختر ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے سلیپر سیل کے ممبر‘‘ Narottam Mishra

      پالیسی میں کہا گیا ہے کہ روسی فیڈریشن بیرون ملک مقیم اپنے ہم وطنوں کو ان کے حقوق کی تکمیل میں مدد فراہم کرتا ہے، تاکہ ان کے مفادات کے تحفظ اور ان کی روسی ثقافتی شناخت کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ روس کے بیرون ملک اپنے ہم وطنوں کے ساتھ تعلقات نے اسے بین الاقوامی سطح پر ایک جمہوری ملک کے طور تشکیل دینے میں مدد کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Pakistani Taliban: اسلام آبادکےساتھ پاکستانی طالبان نےجنگ ​​بندی کی ختم، معاہدےکی خلاف ورزی کالگایاالزام

      روس نے بالٹکس سے لے کر وسطی ایشیا تک سابقہ ​​سوویت خلا کو اپنا جائز دائرہ اثر سمجھنا جاری رکھا ہے۔ اس تصور کی ان میں سے بہت سے ممالک کے ساتھ ساتھ مغرب نے بھی شدید مزاحمت کی۔ نئی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ روس کو بیرونی ممالک خاص کر چین اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے۔ وہیں مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ماسکو کو ابخازیہ اور اوسیتیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہیے، دو جارجیا کے علاقوں کو ماسکو نے 2008 میں جارجیا کے خلاف جنگ کے بعد آزاد تسلیم کیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: