உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس کے وزیر خارجہ لاوروف نے UNGA میں امریکہ کے خلاف کی گرجدار تقریر، کہا یہ باتیں

    ’’ہمیں عراق اور لیبیا میں امریکی ساحلوں سے بہت دور جارحیت کی جنگیں یاد آتی ہیں‘‘۔

    ’’ہمیں عراق اور لیبیا میں امریکی ساحلوں سے بہت دور جارحیت کی جنگیں یاد آتی ہیں‘‘۔

    Russian Foreign Minister Sergey Lavrov: یوکرین میں اپنے روسی فوجی آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ آج ہم خود مختار ریاستوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو قومی مفاد کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک مساوی سماجی اور سیاسی تانہ بانہ تیار کیا جارہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaRussiaRussiaRussia
    • Share this:
      روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف (Sergey Lavrov) نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس میں ایک شعلہ انگیز تقریر میں امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ یک قطبی ماڈل کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے امریکہ کے مغربی اتحادیوں کو حیران کن روسو فوبیا کے خلاف تنقید کا نشانہ بنایا۔

      یوکرین میں اپنے روسی فوجی آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ آج ہم خود مختار ریاستوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو قومی مفاد کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک مساوی سماجی اور سیاسی تانہ بانہ تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک اور واشنگٹن کسی بھی معروضی جغرافیائی سیاسی عمل کو اپنی غالب پوزیشن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

      نئی تبدیلی کے خلاف؟

      انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی نئی تبدیلی کو روکنا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے خود کو زمین پر خدا کا تقریباً ایلچی قرار دیا ہے جہاں صرف ان کے پاس استثنیٰ کا مقدس حق ہے۔ کسی بھی قوم کے خلاف وہ ناراض ہوتا ہے، تو اس کا برملا اظہار کرتا ہے اور اس پر اپنی ڈھال قائم کرتا ہے۔ عراق اور لیبیا میں امریکہ کی جنگوں پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس وقت دنیا کے مفادات متاثر نہیں ہوئے؟

      انھوں نے کہا کہ ہمیں عراق اور لیبیا میں امریکی ساحلوں سے بہت دور جارحیت کی جنگیں یاد آتی ہیں جن میں لاکھوں جانیں گئیں۔ کیا ان میں سے کسی ایک ملک میں دنیا کے مفادات متاثر ہوئے؟ کیا انگریزی پر پابندی تھی، یا کسی مقامی زبان پر پابندی تھی اور میڈیا کلچر کا کیا ہوگا؟

      یہ بھی پڑھیں: 

      بیٹی سے شادی کر سکتا ہے باپ، ، یہ ہیں Iran عجیب و غریب قوانین

      مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی مہم جوئی پر تنقید کرتے ہوئے لاوروف نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق یا معاشی حالات مستحکم ہوئے یا لوگوں کی روزی روٹی بہتر ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایک قطبی ماڈل کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس کے تحت صرف امریکہ کی اجارہ داری کو تسلیم کیا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستان نے لگائے جھوٹے الزام، دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ ممکن نہیں، UNمیں ہندستان کا کرارا جواب



      انہوں نے مزید کہا کہ اب امریکہ خود عالمی چودھری بننے کی نفسیات کا شکار بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف، کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: