உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس- یوکرین جنگ کو لے کر جے شنکر نے یوروپ کو دکھایا آئینہ، کہا- آپ کو ذہنیت بدلنے کی ضرورت

    S Jaishankar Russia Ukraine War: وزیر خارجہ ایس جے شنکر’گلوب سیک-2022 فورم‘ میں حصہ لینے کے لئے سلواکیہ پہنچے ہیں۔

    S Jaishankar Russia Ukraine War: وزیر خارجہ ایس جے شنکر’گلوب سیک-2022 فورم‘ میں حصہ لینے کے لئے سلواکیہ پہنچے ہیں۔

    S Jaishankar Russia Ukraine War: وزیر خارجہ ایس جے شنکر’گلوب سیک-2022 فورم‘ میں حصہ لینے کے لئے سلواکیہ پہنچے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی محض اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ اس کی پالیسی کچھ دیگر ممالک کے موافق نہ ہو۔ وہ ’گلوب سیک-2022 فورم‘ میں حصہ لیتے ہوئے ’ٹیکنگ فرینڈشپ ٹو دی نیکسٹ لیول: الائنس ان دی انڈو پیسفک‘ موضوع پر تبادلہ خیال کے دوران اپنی بات رکھ رہے تھے۔ وزیر خارجہ کی طرف سے یہ بیان تب آیا جب ان سے روس-یوکرین جنگ پر نئی دہلی کے رخ کے بارے میں پوچھا گیا؟ اس کے ساتھ ہی ایس جے شنکر سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا ایسی صورتحال میں ہندوستان ایک ابھرتے ہوئے عالمی لیڈر کے طور پر فیصلہ لینے سے بچنے کا خطرہ اٹھا سکتا ہے۔

      جب وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان چین کے ساتھ اپنی صورتحال میں عالمی برادری سے مدد کی امید کرتا ہے، انہوں نے کہا، ’یہ خیال کہ ہندوستان کسی کی مدد کرتا ہے، تو بدلے میں وہ دوسرے سے مدد بھی لے گا کیونکہ اگر ہندوستان ایک جدوجہد کی صورتحال میں ہے تو اس سے دوسرے جدوجہد میں مدد ملے گی… دنیا اس طرح سے کام نہیں کرتی ہے۔ چین کے ساتھ ہماری بہت ساری پریشانیوں کا یوکرین اور روس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ اس جنگ کی شروعات کے کافی پہلے سے ہی ہیں‘۔

      ہندوستان کے ذریعہ روس سے تیل خریدنے پر یہ کہا

      یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان روس سے تیل خرید کر یوکرین کے ساتھ چل رہی جنگ کی فنڈنگ نہیں کر رہا ہے، جے شنکر نے کہا، ’دیکھئے، میں بحث نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم پھر کیا روسی گیس خریدنا جنگ کے لئے فنڈنگ جیسا نہیں ہے؟ صرف ہندوستانی روپیہ اور ہندوستان آرہا روسی تیل ہی جنگ کی فنڈنگ کر رہا ہے… تو پھر یوروپ بھیجے جا رہے روسی گیس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے‘۔؟

      جے شنکر نے یوروپ کو دکھایا آئینہ

      وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسے کئی موضوع ہیں، جن پر یوروپ نے کبھی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا، ’یوروپ کو اس ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا کہ یوروپ کی پریشانی دنیا کی پریشانی ہے، لیکن دنیا کی پریشانی یوروپ کی پریشانی نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا، ’آج چین اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بن رہے ہیں، لیکن اور یوکرین میں کیا ہو رہا ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی یوکرین-روس جنگ سے بہت پہلے ہوئے تھے۔ اس ثبوت کو کوئی بھی خارج نہیں کرسکتا‘۔ جے شنکر نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے سبھی بڑے چیلنجز کا حل کسی نہ کسی طور پر ہندوستان سے آرہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: