உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یمن میں غلط اطلاع پر عرب اتحاد نے فضائی حملہ کیا تھا : سعودی اتحاد کی تفتیشی رپورٹ

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    یمن میں جنازے کے تعزیتی جلوس پر سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی جانب سے غلط معلومات پر فضائی حملہ کیا گیا تھا۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      ریاض : یمن میں جنازے کے تعزیتی جلوس پر سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی جانب سے غلط معلومات پر فضائی حملہ کیا گیا تھا۔ عرب اتحاد کی تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش کے بعد بتایا کہ یمن میں ایران نواز حوثی تحریک بغاوت سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار عرب اتحاد نے یمنی فوجی ذرائع سے غلط اطلاع ملنے پر صنعاء میں جنازے کے تعزیتی جلوس پر حملہ کیا تھا ۔ یمنی فوجی ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ مسلح حوثی جنگجوؤں کا گروپ علاقے میں موجود ہے، جس کے بعد فضائي حملہ کیا گيا تھا۔

      واضح رہے کہ گزشتہ 8 اکتوبر کو یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی باغیوں کو نشانہ بنا کر ایک تعزیتی جلوس کے مجمع پرفضائی حملہ کردیا گيا تھا۔حملے میں اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق کم سے کم 140 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 600 دیگر زخمی ہو گئے تھے، جبکہ حوثی ذرائع کے مطابق 82 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے اور چند سرکاری اور فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔

      اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ 14 ممالک کی حادثات کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئي اے ٹی) کے ایک بیان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ " یمنی جنرل چیف آف اسٹاف سے ملحقہ فریق نے غلط طورپر اطلاع دی تھی کہ صنعاء کے ایک معلوم مقام پر مسلح حوثی باغیوں کی میٹنگ ہونے والی ہے اور اس نے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ فوری طورپر اس مقام کو نشانہ بنایا جائے"۔

      جانچ میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ یمن میں ایئر آپریشن سینٹر نے جنگی طیاروں کو اتحادی افواج کے کمانڈنٹ کی اجازت کے بغیر فضائی حملے کے لئے پرواز کی اجازت دے دی تھی۔ آپریشن سینٹر نے کمانڈروں کی اجازت نہ لے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے۔ تفتیش کاروں نے جنگی آپریشن کے ضوابط پر نظر ثانی کرنے اور متاثرین کو معاوضہ دینے کے لئے بھی کہا ہے۔ تحقیقات کاروں نے حادثے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کی سفارش کی ہے۔ جے آئی اے ٹی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ غلط معلومات پر فضائی حملہ کرکے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والوں کی خلاف کارروائي کی جاسکتی ہے، جس میں عدالتی چارہ جوئي بھی شامل ہے۔

      واضح رہے کہ بین الاقوامی تسلیم شدہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت کر نے والی یمنی فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے، جہاں سعودی قیادت میں عرب اتحادی افواج ایران نواز حوثی باغی تحریک کے خلاف برسرپیکار ہے۔
      First published: