ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی عرب میں شاہی خاندان کے ایک قاتل رکن کا سر قلم کرنے کا غیرمعمولی واقعہ

دُبئی۔ قتل کے جرم میں سعودی عرب میں غیر معمولی طور پرکل شاہی خاندان کے ایک رکن کو موت کی سزا دیدی گئی۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 19, 2016 11:33 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سعودی عرب میں شاہی خاندان کے ایک قاتل رکن کا سر قلم کرنے کا غیرمعمولی واقعہ
سعودی وزارت داخلہ۔ تصویر۔ العربیہ ڈاٹ کام۔

دُبئی۔ قتل کے جرم میں سعودی عرب میں غیر معمولی طور پرکل شاہی خاندان کے ایک رکن کو موت کی سزا دیدی گئی۔ یہ اپنے طور پر ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس میں شاہی خاندان کے کسی رکن کو سزائے موت دی گئی۔ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے حوالے سے کہا گیا کہ شہزادہ تُرکی بن سعود الکبیر کو سعودی شہری عادل المحمید کو جھگڑے کے دوران فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کے جرم میں سعودی راجدھانی ریاض میں سزائے موت دی گئی۔ سر قلم کئے جانے کے اس واقعہ کے ساتھ رواں سال سعودی عرب میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔


عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس بے نام شہزادے کو نومبر 2014 میں اپنے دوست کو قتل کرنے پر بھی سزائے موت سنائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، مسلح ڈکیتی، ریپ اور اسلامی تعلیمات کے تحت قائم اصولوں سے انکار پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ اب تک جن افراد کو سزائے موت دی گئی، ان میں زیادہ تر کے سر تلوار سے کاٹے گئے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے قبل ازیں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں گزشتہ سال 158 افراد کو سزائے موت دی گئی، جو ایران اور پاکستان کے بعد سب سے زیادہ ہے۔


اسی سال جنوری میں سعودی عرب میں ’دہشت گردی‘ کے جرم میں ایک ہی روز 47 افراد کے سر کاٹ ڈالے گئے تھے۔ ان میں مشہور عالم شیخ نمر النمر بھی شامل تھے۔ گردن زدنی کے اس واقعے پر سعودی ایران تلخی اتنی بڑھی کہ نوبت تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کرنے کی کوشش اور دونوں ملکوں مین سفارتی تعلقات کے خاتمے تک پہنچ گئی۔

First published: Oct 19, 2016 10:25 AM IST