ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی عرب کی زیرقیادت آئی ایس کے خلاف34 اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد

دوبئی۔ سعودی عرب نے دولت اسلامیہ(داعش) یا اسلامی ریاست(آئی ایس) جیسی دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اپنی قیادت میں 34اسلامی ملکوں کا ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 15, 2015 02:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سعودی عرب کی زیرقیادت آئی ایس کے خلاف34 اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد
دوبئی۔ سعودی عرب نے دولت اسلامیہ(داعش) یا اسلامی ریاست(آئی ایس) جیسی دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اپنی قیادت میں 34اسلامی ملکوں کا ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

دوبئی۔  سعودی عرب نے دولت اسلامیہ(داعش) یا اسلامی ریاست(آئی ایس) جیسی دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اپنی قیادت میں 34اسلامی ملکوں کا ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس اتحاد میں مصر، قطر اور عرب امارات جیسے کئی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی، ملیشیا، پاکستان اور افریقی ممالک شامل ہیں۔


سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے پر ان ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ’جن ممالک کا یہاں ذکر کیا گیا ہے انھوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، آپسی روابط اور ملٹری آپریشن کی غرض سے اس کا مشترکہ آپریشن سینٹر ریاض میں ہوگا۔‘ بیان میں اسلامی ممالک کو شدت پسندی میں ملوث ہر اس تنظیم اور گروہ، چاہے اس کا کوئی بھی نام ہو یا کسی بھی مسلک سے تعلق ہو، کی تخریب کاری سے تحفظ کو فرض قرار دیا گیا ہے جو زمین پر فساد برپا کر رہے ہیں اور جن کا مقصد معصوم افراد میں دہشت پھیلانا ہے۔ جو ممالک اس فوجی اتحاد میں شامل ہیں ، ان کے نام ہیں:پاکستان، متحدہ عرب امارات، بحرین، بنگلہ دیش، ترکی، چاڈ، تیونس، ,ٹوگو، بینن، سوڈان، صومالیہ، سینگال، قطر، فلسطین، گینی، گبون، مراکش، مصر، مالی، مالدیپ، لیبیا، موریتانیہ، نائجر، نائجیریا، یمن، کویت، کمروز، جبوتی، لبنان، سیرالیون، اردن۔ اس فہرست میں ایران کا نام شامل نہیں ہے۔


دریں اثنا سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے  صحافیوں کو بتایا کہ اس مہم کے ذریعے عراق، شام، لیبیا ، مصر اور افغانستان جیسے ممالک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مربوط کیا جائے گا۔ تاہم انھوں نے ایسی کوئی اہم بات نہیں بتائی جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ فوجی مہم کس طرح عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’شام اور عراق میں آپریشن کے لیے اہم طاقتوں اور عالمی اداروں کے ساتھ عالمی سطح کے روابط استوار کیے جائیں گے۔ ان سے جب پو چھا گیا کہ کیا یہ نیا فوجی اتحاد صرف دولت اسلامیہ پر مرکوز ہوگا تو محمد بن سلمان نے کہا نہ صرف وہ گروپ بلکہ ’ہمارے سامنے جو بھی دہشت گرد تنظیم ابھرے گی ہم اس کا سامنا کریں گے۔‘


سعودی عرب اور اس کے پڑوسی خلیجی ممالک کا اتحاد گذشتہ کئی ماہ سے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جس طرح سے دولت اسلامیہ نے مغربی مقامات کو نشانہ بنایا ہے اس کے بعد سے امریکہ نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ اس فوجی طاقت کا مناسب استعمال دولت اسلامیہ کے خلاف ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ دریں اثنا امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر 22 فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکہ کی قیادت میں مشترکہ ٹاسک فورس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر پندرہ فضائی حملے کیے ہیں،ان میں مغربی شہر الرمادی میں داعش کے چھے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے علاوہ موصل ،فلوجہ ،سنجار ،تل عفر ،سلطان عبداللہ ، رواح اور قریہ میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔


شام میں اتحادی طیاروں نے سات فضائی حملے کیے ہیں اور داعش کے ''دارالخلافہ'' الرقہ سمیت پانچ شہروں کے قرب وجوار میں واقع داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔اتحادی طیاروں نے داعش کے یونٹوں ،عمارتوں ،گاڑیوں ،آلات اوراسلحے کے ایک ڈپو پر گیارہ فضائی حملے کیے ہیں۔اتحادی ممالک کے طیاروں کے فضائی حملوں میں نشانہ بننے والے ان شہروں میں داعش نے جون 2014ء سے اپنی خلافت قائم کررکھی ہے۔

First published: Dec 15, 2015 02:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading