ہوم » نیوز » عالمی منظر

پانچ لاکھ شامی پناہ گزیں سعودی عرب میں قیام پذیر

دبئی۔ شام میں پرتشدد خانہ جنگی کے حالات سے بچ کر ملک سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کے یوروپ اور دیگر ممالک کا رخ کرنے کی خبروں کے بعد سعودی عرب نے حال ہی میں سامنے آنے والے اعدادو شما ر کی بنیاد پر بتایا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب نے شامی مہاجرین کو پناہ دینے سے روک رکھا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 09, 2015 12:57 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پانچ لاکھ شامی پناہ گزیں سعودی عرب میں قیام پذیر
دبئی۔ شام میں پرتشدد خانہ جنگی کے حالات سے بچ کر ملک سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کے یوروپ اور دیگر ممالک کا رخ کرنے کی خبروں کے بعد سعودی عرب نے حال ہی میں سامنے آنے والے اعدادو شما ر کی بنیاد پر بتایا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب نے شامی مہاجرین کو پناہ دینے سے روک رکھا ہے۔

دبئی۔  شام میں پرتشدد خانہ جنگی کے حالات سے بچ کر ملک سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کے یوروپ اور دیگر ممالک کا رخ کرنے کی خبروں کے بعد سعودی عرب نے حال ہی میں سامنے آنے والے اعدادو شما ر کی بنیاد پر بتایا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب نے شامی مہاجرین کو پناہ دینے سے روک رکھا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پانچ لاکھ شامی پناہ گزین سعودی عرب میں پناہ حاصل کرچکے ہیں۔


سعودی حکومت کی جانب سے انہیں عارضی قیام کی سہولت کے علاوہ اُنہیں روزگار کی فراہمی کے ساتھ مفت میں صحت اور تعلیم کی سہولتیں بھی مہیا کی گئی ہیں۔

ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام سے تین لاکھ باشندے عارضی اورمحدود مدت کے ویزوں پر سعودی عرب آئے تھے مگر وہ واپس نہیں جاسکے ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ شامی طلبہ سعودی عرب میں مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گيا ہےکہ شام سے نقل مکانی کر کے سعودی عرب آنے والے نصف ملین (پانچ لاکھ) شہریوں کو عالمی سطح پر پناہ گزینوں میں اس لیے رجسٹرڈ نہیں کیا گیا کہ سعودی عرب نے انہیں اقامت، روزگار، صحت اور دیگر بنیادی شہری سہولتیں مہیا کر رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ مشرق وسطی کے ممالک میں پرتشدد حالات اور خانہ جنگی سے بچنے کے لئے نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کے دشوار گزار آبی راستے سے یوروپ اور امریکہ کا رخ کرنے اور اس صبر آزما سفر میں انہیں پیش آنے والی مشکلات کے بعد گزشتہ ہفتہ عالمی برادری کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جانے لگا تھا کہ شامی پناہ گزينوں کے لئے خلیجی عرب ممالک کوئي اقدام نہيں کررہے ہيں۔
میڈیا میں آنے والی ان رپورٹوں کے بعد سعودی عرب نے کہا کہ سعودی حکومت نے ملک میں پہلے سے موجود شامی تارکین وطن کو مشکلات میں گھرے اپنے اہل خانہ کو بھی لانے کی اجازت دے تھی جس کے بعد بڑی تعداد میں شام سے لوگ نقل مکانی کرتے ہوئے سعودی عرب میں داخل ہوئے ہیں اور اب ان کی تعداد تقریبا پانچ لاکھ سے زيادہ ہوچکی ہے۔
First published: Sep 09, 2015 12:57 PM IST