ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغانستان میں ان مسلم ممالک کے کردار سے تشویش میں سعودی عرب، ہندوستان سے کیا رابطہ

افغانستان کے تازہ حالات پر تبادلہ خیال کے لئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کا ہندوستان دورہ 19 ستمبر تک ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے تین نومبر کو وزیر اعظم مودی نے سعودی ولی عہد شیخ محمد بن النہان کے ساتھ فون پر بات چیت کی تھی۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی دبئی کے صدر کے سفارتی مشیر کے ساتھ کابل بحران پر بات کرچکے ہیں۔

  • Share this:
افغانستان میں ان مسلم ممالک کے کردار سے تشویش میں سعودی عرب، ہندوستان سے کیا رابطہ
افغانستان میں ان مسلم ممالک کے کردار سے تشویش میں سعودی عرب، ہندوستان سے کیا رابطہ

نئی دہلی: ہندوستان کے معاون دو بڑے خلیجی ممالک سعودی عرب اور دبئی طالبان کے افغانستان پر کنٹرول سے تشویش میں ہیں۔ یہ مسئلہ سعودی عرب کے لئے کتنا اہم ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ہندوستان کا دورہ کرنے کی امید ہے۔ دراصل، یہ ملک افغانستان میں طالبان حکومت کی تشکیل اور اسے قانونی منظوری دینے میں قطر کے کردار کو لے کر پریشان ہیں۔ سعودی عرب کا ماننا ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد خطے میں سیکورٹی سے متعلق مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔


کئی مسلم ممالک سے ناراض ہیں سعودی عرب اور دبئی


دونوں خلیجی ممالک (سعودی عرب اور دبئی) افغانستان میں قطر، پاکستان اور ترکی کے سرگرم رول کو لے کر تشویش میں ہیں۔ پاکستان نے اپنی کمرشیل فلائٹس کی آپریٹنگ کابل کے لئے شروع کردی ہے۔ کابل ایئر پورٹ کے ٹیکنیکل آپریشن کا ذمہ قطر سنبھال رہا ہے۔ جبکہ طالبان حکومت سیکورٹی کا ذمہ ترکی آرمی کو دینے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔


خود قطر کے وزیر خارجہ عبدالرحمان الثانی اور خصوصی سفیر ماجد القہطانی گزشتہ اتوار کو کابل میں تھے۔ حالانکہ بین الاقوامی برادری نے ابھی تک طالبان کو باضابطہ طور پر منظوری نہیں دی ہے، تاہم کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، طالبان کو فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے۔

ہندوستان کے رابطہ میں ہے سعودی عرب اور دبئی

افغانستان کے تازہ حالات پر تبادلہ خیال کے لئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کا ہندوستان دورہ 19 ستمبر تک ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے تین نومبر کو وزیر اعظم مودی نے سعودی ولی عہد شیخ محمد بن النہان کے ساتھ فون پر بات چیت کی تھی۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی دبئی کے صدر کے سفارتی مشیر کے ساتھ کابل بحران پر بات کرچکے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 15, 2021 07:30 AM IST