உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمال خاشقجی قتل معاملہ: 5 مجرموں کو 20،20 برس کی قید، خاشقجی کے کنبے کا عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار

    جمال خاشقجی

    جمال خاشقجی

    بتا دیں کہ جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کے لئے لکھتے تھے۔ خاشقجی شاہی کنبے کے ناقد مانے جاتے تھے۔ انہوں نے ایک مضمون لکھ کر ولی عہد محمد بن سلمان کی کافی تنقید کی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ریاض۔ سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں عدالت کے فیصلے پر ان کے کنبے نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پوری غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ سنایا ہے۔ سعودی عرب کے العربیہ نیوز چینل نے یہ اطلاع خاشقجی کے کنبے کے وکیل کے حوالے سے دی ہے۔ سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن دفتر کے ایک ترجمان نے پیر کو بتایا کہ عدالت نے خاشقجی کے قتل معاملے میں آٹھ مشتبہ افراد کو سزا سنائی ہے۔ ان میں سے پانچ کو 20،20 برس کی قید، تین دوسرے مجرموں کو سات سے 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔۔

      واضح رہے کہ خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کے مبصر تھے اور اکتوبر 2018 کو ترکی کے استنبول واقع سعودی قونصلیٹ سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ پہلے تو سعودی عرب نے ان کے بارے میں کوئی بھی اطلاع دینے سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں تسلیم کرلیا کہ قونصلیٹ میں ہی ان کو قتل کیا گیا اور ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ٹھکانے لگا دیئے گئے۔ اس کی دنیا بھر کی تنظیموں نے مذمت کی اور ان کے قتل کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔

      شاہی کنبے پر بھی اٹھے تھے سوال

      بتا دیں کہ جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کے لئے لکھتے تھے۔ خاشقجی شاہی کنبے کے ناقد مانے جاتے تھے۔ انہوں نے ایک مضمون لکھ کر ولی عہد محمد بن سلمان کی کافی تنقید کی تھی۔

      جمال خاشقجی قتل کے معاملے میں 23 دسمبر 2019 کو عدالت نے پانچ مجرموں کو موت کی سزا جبکہ تین کو 24 سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ قتل معاملہ میں سعودی شہزادہ کے دو معاونین کے ملوث ہونے کا بھی الزام لگا تھا۔ اس میں شہزادہ کے سابق صلاح کار القحطانی اور استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں تعینات قونصل جنرل محمد العطیبی کو کلین چٹ دے دی گئی تھی۔

      یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: