ہوم » نیوز » عالمی منظر

جوہری سائنسداں فخری زادے کے قتل کے الزام پر سعودی عرب نے ایران کو لتاڑا

پیر کے روز ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے انسٹاگرام پر کہا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے مابین سعودی عرب میں ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کا اس قتل سے تعلق ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ ایک "سازش" تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 02, 2020 01:24 PM IST
  • Share this:
جوہری سائنسداں فخری زادے کے قتل کے الزام پر سعودی عرب نے ایران کو لتاڑا
ایران کے ٹاپ جوہری سائنسداں محسن فخری زادہ کی فائل فوٹو

ریاض۔ سعودی عرب کے ایک اہم وزیر نے کل ایران کے وزیر خارجہ پر اس بات کیلئے طنز کیا کہ انہیں ممتاز ایرانی نیوکلیائی سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل میں سعودی ہاتھ نظر آتا ہے۔ ایران کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے معمار سمجھے جانے والے فخری زادہ کو جمعہ کے روز دارالحکومت تہران کے باہر سڑک پر بم اور بندوق کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے سے ایران اور اس کے دشمنوں کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔


پرسوں یعنی پیر کے روز ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے انسٹاگرام پر کہا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے مابین سعودی عرب میں ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کا اس قتل سے تعلق ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ ایک "سازش" تھی۔ سعودی وزیر برائے امور خارجہ عادل الزبیر نے ٹویٹ کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ ظریف ایران میں کسی بھی منفی واقعے پر سعودی عرب کو مورد الزام ٹھہرانے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ تو کیا وہ اگلے زلزلے یا سیلاب کے لئے بھی سعودی عرب پر ہی الزام لگائیں گے؟


دیگر خلیجی ریاستوں کے برعکس ، سعودی عرب نے مذکورہ قتل کی باضابطہ مذمت نہیں کی ہے۔ سعودی عرب ایک طاقتور سنی ملک ہے۔ اس کے اور شیعہ طاقت والے ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے پرانی دشمنی چلی آرہی ہے۔


اسرائیلی میڈیا رپورٹس اور ایک اسرائیلی حکومت کے ذریعہ کے مطابق ، گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد کے ساتھ سعودی عرب میں تاریخی گفتگو کی تھی۔ ذرائع کے مطابق نیتن یاہو اور جاسوس ایجنسی موساد کے سربراہ یوسف میرکوہین نے بحر احمر کے شہر نیوم میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی معیت میں سعودی ولی عہد محمد سے ملاقات کی۔ سعودی عرب نے بہرحال نے ایسی کسی ملاقات سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سرکاری سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن دونوں بظاہر ایران کے ساتھ مشترکہ عداوت کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے میں لگے ہیں۔ اسرائیل نے ابھی اسی سال متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے سنی خلیجی ملکوں کے ساتھ جو سعودی عرب سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، اپنے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایک امریکی عہدیدار اور انٹیلیجنس کے دو دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فخری زادہ پر حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ اسرائیل نے اس قتل پر باقاعدہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 02, 2020 01:24 PM IST