ہوم » نیوز » عالمی منظر

اس ایک شخص کے پیچھے کیوں پڑا ہے سعودی عرب؟ خود شہزادہ محمد بن سلمان نے سنبھالا مورچہ

یہ شخص تین سال پہلے ہی سعودی عرب سے بھاگ گیا تھا، حالانکہ اب سعودی حکومت نے فرمان جاری کر کے نہ صرف اس آفیسر پر بلکہ اس کے پورے کنبے پر مقدمہ چلانا شروع کر دیا ہے۔

  • Share this:
اس ایک شخص کے پیچھے کیوں پڑا ہے سعودی عرب؟ خود شہزادہ محمد بن سلمان نے سنبھالا مورچہ
محمد بن سلمان کی فائل فوٹو

ریاض۔ سعودی عرب  (Saudi Arabia) کی خفیہ ایجنسی میں کام کر رہا ایک شخص آج کل ملک کے لئے موسٹ وانٹیڈ بنا ہوا ہے۔ اس شخص نے سعودی عرب کے لئے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 16، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور یوروپی ملکوں کی کئی معروف ایجنسیوں کے ساتھ مل کر سالوں تک کام کیا ہے۔ یہ شخص تین سال پہلے ہی سعودی عرب سے بھاگ گیا تھا، حالانکہ اب سعودی حکومت نے فرمان جاری کر کے نہ صرف اس آفیسر پر بلکہ اس کے پورے کنبے پر مقدمہ چلانا شروع کر دیا ہے۔


بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی خفیہ ایجنسی کے لئے کام کر چکے اس شخص کا نام ڈاکٹر سعد الجابری (Saad al-Jabri)  ہے۔ سعد مغربی ملکوں کی ایجنسیوں میں کافی مشہور ہیں کیونکہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے بم دھماکے کی سازش کو ناکام کرنے میں مدد کی تھی۔ حالانکہ سعودی عرب میں اب ان کے کنبے کے زیادہ تر لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ سعد کے بڑے بیٹے خالد نے بتایا کہ سعودی حکومت کے افسران دو مہینے پہلے ان کے گھر آئے تھے اور سب کو اٹھا کر لے گئے، تبھی سے ان کے لوکیشن کی کوئی جانکاری نہیں مل پا رہی ہے۔


20 کاروں میں آئے لوگ، سب کو اٹھا لے گئے


خالد نے بتایا کہ ان کے بھائی بہن عمر اور سارا کو 16 مارچ کی صبح گھر سے اٹھا لیا گیا۔ ان دو لوگوں کے لئے بیس کاروں میں تقریبا پچاس لوگ آئے تھے اور بغیر کچھ بتائے انہیں گرفتار کر انجان جگہ لے جایا گیا۔ نہ صرف ان کے گھر کی تلاشی لی گئی بلکہ سی سی ٹی وی کا میموری کارڈ بھی نکال لیا گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ان دونوں کو سعودی کے خفیہ ڈٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ خالد اور ان کے والد سعد فی الحال کناڈا میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ خالد کے مطابق، سارا اور عمر کے ذریعہ ان کے والد سعد کو سعودی واپس آنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب ابھی تک اس پورے معاملے پر چپی سادھے ہوئے ہے۔

شہزادہ محمد بن نائف کے ساتھی تھے سعد الجابری

موصولہ اطلاعات کے مطابق، سعد الجابری کو سعودی شہزادہ محمد بن نائف کا دایاں ہاتھ مانا جاتا تھا اور انہیں سال 2000 میں القاعدہ کی بغاوت کو شکست دینے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ انہیں امریکہ، برطانیہ، کناڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ سعودی عرب کے رشتوں کی اہم کڑی مانا جاتا تھا۔

سال 2000 میں یمن میں القاعدہ نے شکاگو جانے والے ایک مال بردار طیارے مین طاقتور بم پلانٹ کیا تھا۔ حالانکہ، سعد کا القاعدہ میں ایک مخبر تھا جس نے وقت پر جانکاری دے دی اور برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس نے بم کا پتہ لگا کر طیارہ کے اندر ہی اسے ناکام بنا دیا تھا۔ سعد الجابری نے سعودی خفیہ ایجنسی کو جدید بنایا جس میں فارنسک اور کمپیوٹر پر مبنی ڈیٹا کا استعمال ہونے لگا۔ بتا دیں کہ سعد نے ایڈنبرا یونیورسیٹی سے آرٹیفیشیل انٹلی جنس میں ڈاکٹریٹ کیا ہے۔ وہ کابینہ وزیر کے رینک تک پہنچ چکے تھے اور داخلی سیکورٹی وزارت میں میجر جنرل کے رینک پر بھی انہوں نے کام کیا تھا۔

شہزادہ سلمان سے نہیں بنی!

اس رپورٹ کے مطابق، سال 2015 میں شاہ عبداللہ کی موت کے بعد سلمان نے اقتدار سنبھالا اور محمد بن نائف کو وزیر دفاع بنا دیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک کی فوج کے ذریعہ یمن کی داخلی جنگ میں دخل دینا چاہتے تھے حالانکہ سعد الجابری اس کی مخالفت میں تھے۔ پھر بھی فوج اتار دی گئی اور یہ قدم سعودی عرب کے لئے کافی برا ثابت ہو رہا ہے۔ سال 2017 میں محمد بن نائف کو ہٹا کر شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کی جگہ لے لی۔ پرنس نائف اب حراست میں ہیں اور سعد کو بھاگ کر کناڈا میں رہنا پڑ رہا ہے۔ مغربی خفیہ حکام کے مطابق، محمد بن سلمان اب بھی ڈاکٹر سعد الجابری کو اپنے لئے خطرہ مانتے ہیں۔
First published: May 27, 2020 09:51 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading