ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی عرب میں درجنوں فلسطینیوں پر حماس سے رابطے کے الزام میں دہشت گردی کے مقدمات قائم

حماس کی جانب سے جاری ایک بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حماس نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب میں فلسطینی شہریوں پر عائد الزامات کو جھوٹا اور ان کو حراست میں لئے جانے کو غیر منصفانہ گردانا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 11, 2020 02:05 PM IST
  • Share this:
سعودی عرب میں درجنوں فلسطینیوں پر حماس سے رابطے کے الزام میں دہشت گردی کے مقدمات قائم
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان۔ فائل فوٹو

دوحہ۔ اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریک چلانے والی تنظیم حماس سے تعلق رکھنے کے الزام میں سعودی عرب نے درجنوں فلسطینیوں پر دہشت گردی کے مقدمات دائر کر دیئے ہیں۔ یہ اطلاع قطری نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' نے دی ہے۔ الجزیرہ نے عرب ذرائع ابلاغ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ 68 لوگوں کے خلاف جن کا تعلق فلسطین اور اردن سے ہے، سعودی دار الحکومت میں قائم دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمات دائر کئے گئے ہیں۔


حماس کی جانب سے جاری ایک بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حماس نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب میں فلسطینی شہریوں پر عائد الزامات کو جھوٹا اور ان کو حراست میں لئے جانے کو غیر منصفانہ گردانا ہے۔ متاثرین کے گھر والوں کا استدلال ہے کہ ان کے گرفتار اہل خانہ کو بغیر کسی قانونی معاونت کے مقدمات کا سامنا ہے۔ یہ گرفتاریاں سعودی عرب کی خفیہ پولیس نے گزشتہ برس اپریل میں کی تھیں۔ میڈیا کے مطابق گرفتار شدگان میں طویل عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ایک اکیاسی(81) سالہ کینسر کا مبینہ مریض بھی شامل ہے جس کا نام محمد الخضری بتایا گیا ہے۔ان کے بیٹے سعودی عرب کی یونیورسٹی میں آئی ٹی کے پروفیسر ہانی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو بظاہرکسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں تھے۔ مبینہ طور پر قید تنہائی میں رکھے جانے والے ان دونوں کی ممکنہ اگلی عدالتی پیشی 5 مئی کو ہو گی۔


فائل فوٹو


ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک بیان کے حوالے سے آن لائن میڈیا میں خبر آئی ہے کہ باپ بیٹے کی گرفتاری سعودی عرب میں مقیم فلسطینیوں کے خلاف حماس سے مبینہ تعلق کے شبہ پر بڑے پیمانے پر کی جانے والی کارروائی کا حصہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پچھلے سال فروری سے اب تک سعودی حکام نےکوئی 60 فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ لوگ یا تو سعودی عرب میں ہی رہتے تھے یا دورے پر آئے ہوئے تھے۔ ان میں طالب علم، تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اور کاروبار کرنے والے سبھی شامل ہیں۔

سعودی عرب میں موجودہ قیادت کے اقتدار میں آنے سے پہلے تک کی حکومتوں کا عمومی رویہ فلسطینی کاز کے حق میں ہوا کرتا تھا۔ اب حالات بظاہر بدل سے گئے ہیں۔ متعلقہ خطے کے امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ سعودی حکومت کی خارجہ پالیسی کا جھکاو اسرائیل کی طرف ہے۔
First published: Mar 11, 2020 02:05 PM IST