ہوم » نیوز » عالمی منظر

سفارتی تنازعہ: سعودی عرب نے کناڈا کے سفیر کو ملک چھوڑ دینے کا دیا حکم

کناڈا کی وزیر خارجہ کی طرف سے انسانی حقوق کی سعودی خاتون کارکنان ثمر بدوی اور نسیمہ السادہ کی رہائی کا مطالبہ سعودی عرب پر اتنا گراں گزرا کہ اس نے کناڈا کے سفیر کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں ملک چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 07, 2018 09:57 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سفارتی تنازعہ: سعودی عرب نے کناڈا کے سفیر کو ملک چھوڑ دینے کا دیا حکم
سعودی عرب کی ثمر بدوی 2012 میں واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران۔ فوٹو رائٹرز۔

 کناڈا کی وزیر خارجہ کی طرف سے انسانی حقوق کی سعودی خاتون کارکنان ثمر بدوی اور نسیمہ السادہ کی رہائی کا مطالبہ سعودی عرب پر اتنا گراں گزرا کہ اس نے کناڈا کے سفیر کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں ملک چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ کناڈیائی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نےدراصل ایک ٹویٹ کے ذریعے سعودی عرب میں زیر حراست انسانی حقوق کی خاتون کارکنان سے اظہار یکجہتی کیا تھا۔


سعودی وزارت خارجہ نے کناڈیائی سفیر کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت تک ہی اپنا رد عمل موقوف نہیں رکھا بلکہ یہ کناڈا کے ساتھ کاروبار کے تمام نئے معاہدوں پر عمل درآمد کو بھی روک دینے کی بات کہہ دی اور کہا کہ سرمایہ کاری کے منصوبے بھی فی الحال معطل رکھے جائیں گے۔ سعودی حکومت نے اوٹاوا میں تعینات سعودی سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے۔ واضح رہے کہ کناڈا تیل کی اپنی ضرورت کا دس فیصد سعودی عرب سے درآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب کناڈا کی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان کے مطابق کناڈا نے ہمیشہ سے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کے لیے، ’’ہماری حکومت کبھی بھی ان اقدار کو فروغ دینے سے نہیں ہچکچائے گی‘‘۔


سعودی وزارت خارجہ نے غیر معمولی طور پر جارحانہ بیان میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’اس رُخ پر کناڈا کے کسی بھی نئے اقدام کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں بھی اُس کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت مل گئی ہے‘‘۔ ثمر بدوی اور نسیمہ السادہ کوگزشتہ ہفتے حراست میں لیا گیا تھا۔ ثمر بدوی معروف سعودی بلاگر رائف بدوی کی بہن ہیں جنہیں 2012 میں مسلم مبلغین کا مذاق اڑانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور دس سال قید اور ایک سو کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

First published: Aug 07, 2018 09:56 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading