உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سعودی سفیر نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے فیصلہ پر امریکہ کو خبردار کیا

    واضح رہے کہ اسرائیل کی حکومت اور فلسطینی مقتدرہ دونوں ہی راجدھانی بنانے کے تعلق سے یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔: فائل فوٹو۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی حکومت اور فلسطینی مقتدرہ دونوں ہی راجدھانی بنانے کے تعلق سے یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔: فائل فوٹو۔

    واشنگٹن۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ اسرائیل- فلسطین تنازع کے حتمی حل سے قبل امریکہ کے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے علاقائی کشیدگی بڑھے گی اور امن کاعمل متاثر ہو گا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      واشنگٹن۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ اسرائیل- فلسطین تنازع کے حتمی حل سے قبل امریکہ کے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے علاقائی کشیدگی بڑھے گی اور امن کاعمل متاثر ہو گا۔ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر خالد بن سلمان نے خبر دار کیا ہے کہ فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل سے قبل مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے کوئی بھی اعلان امن عمل کے لیے سخت نقصان دہ ہو گا۔


      خالد بن سلمان نے مزید کہا کہ اس طرح کے اعلان سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا، مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے کسی اعلان سے امن عمل مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا۔
      امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے بیان میں کہا-’’اسرائیلی فلسطین تنازعہ کے حتمی حل سے پہلے یروشلم کے کسی بھی اعلان سے امن کےعمل پر منفی اثر پڑے گا اور علاقائی کشیدگی بڑھے گی۔


      امریکی انتظامیہ کو یہ بات بتا دی گئی ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی فلسطینی عوام کی حمایت کی رہی ہے‘‘۔

      First published: