ہوم » نیوز » عالمی منظر

ایران حکومت کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں :سعودی عرب کے وزیرِخارجہ عادل الجبیر

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے وزیرِخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ایرانی صدر حسن روحانی کو کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔عادل الجبیر نے صاف طور پر کہا کہ تہران حکومت کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے

  • Share this:
ایران حکومت کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں :سعودی عرب کے وزیرِخارجہ عادل الجبیر
ایران حکومت کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں : سعودی عرب کے وزیرِخارجہ عادل الجبیر-(تصویر:فائل،نیوز18اردو)۔

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے وزیرِخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ایرانی صدر حسن روحانی کو کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔عادل الجبیر نے صاف طور پر کہا کہ تہران حکومت کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے وزیرِ خارجہ عادل الجبیر نے تہران حکومت کے اس دعوے کو سرے سے خارج کردیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کے صدر حسن روحانی کو کوئی پیغام بھیجا ہے۔عادل الجبیر نے سعودی پیغامات وصول ہونے کے متعلق ایرانی حکومت کے بیانات کوجھوٹ قراردیا ہے۔

عادل الجبیر نے کہا کہ ہمارے کچھ دوست ممالک نےکشیدگی میں کمی لانے اور خطے میں استحکام کے حوالے سے سعودی عرب کے نقطہ نظر کے بارے میں ایران کو آگاہ کیا تھا۔ساتھ ہی ان ممالک نے ہمیں صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔عادل الجبیر نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اپنے دوست ملکوں سے کہہ چکا ہے کہ کشیدگی میں کمی کا آغاز اسی ملک کی طرف سے ہونا چاہیے جو اپنی کاروائیوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے۔سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران سے متعلق اپنی پوزیشن کے بارے میں وہ نہ صرف دوست ملکوں کو آگاہ کرچکے ہیں بلکہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔

سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ ایران، یمن میں حوثی باغیوں کی معاونت کر رہا ہے جو اس کی سرزمین پر حملے کرتے ہیں۔عادل الجبیر نے ایران سے سوال کیا کہ اگر ایرانی حکومت یمن میں امن چاہتی ہے تو اس نے اسلحے اور بیلسٹک میزائل کے بجائے یمنی عوام کو کوئی ترقیاتی یا انسانی مدد فراہم کیوں نہیں کی۔واضح رہے کہ ایران کی حکومت کے ترجمان نے 30 ستمبر کو دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے ایران کے صدر حسن روحانی کو مختلف عالمی رہنماؤں کے ذریعے پیغامات بھجوائے ہیں۔ترجمان نے کہا تھا کہ اگر ریاض اپنا رویہ واقعی تبدیل کرنا چاہتا ہے تو ایران اس کا خیرمقدم کرے گا۔ایران اور سعودی عرب کے درمیان ان بیانات کا تبادلہ ایسے وقت ہوا ہے جب سعودی عرب 14 ستمبر کو آئل تنصیبات پر کئے گئے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرا رہا ہے۔ تاہم ایران اس الزام کی تردید کرچکا ہے۔سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

First published: Oct 02, 2019 08:47 PM IST