உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہزادہ محمد بن سلمان مملکت سعودی عربیہ کے ’وزیراعظم‘ نامزد، کیا اب سعودیہ میں بادشاہت ہوگی ختم؟

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان

    شاہ سلمان کے شاہی فرمان کے مطابق داخلہ، خارجہ اور توانائی سمیت دیگر اہم وزارتوں کے سربراہ اپنی جگہ پر برقرار ہیں اور وہ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ شہزادہ محمد گزشتہ ماہ 37 سال کے ہو گئے، وہ 2017 سے اپنے والد کے بعد بادشاہ بننے والے پہلے شخص ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaSaudi ArabiaSaudi ArabiaSaudi Arabia
    • Share this:
      سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (Mohammed bin Salman) کو وزیر اعظم نامزد کر دیا گیا ہے، یہ عہدہ روایتی طور پر بادشاہ کے پاس ہوتا ہے، جس کا اعلان منگل کو ایک حکومتی ردوبدل کے دوران کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مؤثر طریقے سے پرنس محمد کے ذریعے پہلے سے موجود اقتدار کو باضابطہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ ایم بی ایس گذشتہ کئی سال سے مملکت کے اصل حکمران رہے ہیں۔

      سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے ذریعہ شائع ہونے والے شاہ سلمان کے شاہی فرمان کے مطابق داخلہ، خارجہ اور توانائی سمیت دیگر اہم وزارتوں کے سربراہ اپنی جگہ پر برقرار ہیں اور وہ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ شہزادہ محمد گزشتہ ماہ 37 سال کے ہو گئے، وہ 2017 سے اپنے والد کے بعد بادشاہ بننے والے پہلے شخص ہیں۔ جنھیں اب وزیر اعظم نامزد کیا گیا ہے۔

      سعودی عرب نے برسوں سے 86 سالہ بادشاہ شاہ سلمان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، جو 2015 سے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق شاہ سلمان کو اس سال دو بار ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

      بڑی تبدیلیاں:

      شہزادہ محمد 2015 میں وزیر دفاع بنے، جو کہ طاقت کے تیزی سے استحکام کے لیے ایک اہم قدم رہا ہے۔ اس کردار میں انھوں نے یمن میں سعودی عرب کی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی، جہاں مملکت، ایران سے منسلک حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کی قیادت کرتی رہی ہے۔


      یہ بھی پڑھیں: 

      عالم اسلام کے ممتاز عالم دین، کئی کتابوں کے مصنف شیخ علامہ یوسف القرضاوی کا انتقال، علمی حلقوں میں غم کی لہر

      وژن 2030 اور وزیر اعظم:

      وہ وژن 2030 کے نام سے مشہور اصلاحاتی ایجنڈے کا عوامی چہرہ بھی بن چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سعودیہ میں جو تبدیلیوں لائی گئی ہیں، ان میں میں خواتین کو گاڑی چلانے کا حق دینا، سینما گھر کھولنا، غیر ملکی سیاحوں کا استقبال کرنا، پاپ سٹارز کی میزبانی کرنا اور ہائی پروفائل ہیوی ویٹ فائٹ اور دیگر کھیلوں کی تقریبات شامل ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      دہشت گردی کے خلاف ایک اور اہم اقدام، 2016 کی سرجیکل اسٹرائیکس کی طرح  پی ایف آئی پر پابندی



      اس کے باوجود حکومت نے اپنے ناقدین کو جیل میں ڈالا ہے اور ملک کی اشرافیہ کو صاف کرتے ہوئے 2017 کے انسداد بدعنوانی کے کریک ڈاؤن میں ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں تقریباً 200 شہزادوں اور تاجروں کو حراست میں لیا اور دھمکیاں دی ہیں جس نے اقتدار پر اس کی گرفت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: