حج کے دوران بد امنی کے خلاف سعودی عرب کا انتباہ

مکہ مکرمہ۔ سعودی عرب نے آئندہ ہفتہ حج کے فرائض کی ادائیگی کے لئے آنے والے عازمین حج کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اسلام کے اس عظیم الشان سالانہ اجتماع کو کسی طرح کے سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے غلط استعمال نہ کریں۔

Sep 18, 2015 11:11 PM IST | Updated on: Sep 18, 2015 11:13 PM IST
حج کے دوران بد امنی کے خلاف سعودی عرب کا انتباہ

مکہ مکرمہ۔  سعودی عرب نے آئندہ ہفتہ حج کے فرائض کی ادائیگی کے لئے آنے والے عازمین حج کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اسلام کے اس عظیم الشان سالانہ اجتماع کو کسی طرح کے سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے غلط استعمال نہ کریں۔ مملکت سعودی عرب کے اس انتباہ سے اس کی اس تشویش کی عکاسی ہوتی ہے کہ عرب خطے میں جاری تلاطم خیز سیاسی حالات اور پرتشدد خانہ جنگی کی صورتحال کے سبب اس دینی اجتماع کے دوران حملے ہوسکتے ہیں۔

احرام کا خاص لباس پہنے ہوئے اور درجنوں قوموں کی زبان بولنے والے لاکھوں عازمین حج نے آج مکہ مکرمہ کے مسجد الحرام میں نماز جمعہ کے بعد امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی کی دعا ئیں کیں۔ اس بار یہ حج ایسے وقت میں ہونے جارہا ہے جب خطے کے عرب ممالک سیاسی ابتری اور پرتشدد خانہ جنگی کے حالات سے گزررہے ہیں۔

سرکاری میڈیا نے وزیر داخلہ ولی عہد محمد بن نائف کے حوالے سے کہا کہ "پورے ملک میں اور بالخصوص مکہ مکرمہ میں سلامتی دستے کسی بھی ایسے ناروا سلوک یا قابل اعتراض نقل و حرکت سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں، جس سے حج کے دوران پر امن فضا مکدر ہوسکتی ہے اور جس سے اللہ کے مہمانوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے"۔

خیال رہے کہ 2011 میں عرب بہاریہ کے بعد سے عرب ممالک میں سنی اور شیعہ کے درمیان جاری مسلکی لڑائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تلاطم خیز سیاسی صورتحال نے عر ب دنیا کو دہلا کر رکھ دیا اور یہ صورتحال اس سال مزید پیچیدہ ہوگئي ہے ، کیونکہ شام اور عراق کے بعد لیبیا اور یمن بھی مکمل طورپر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آچکے ہيں۔

Loading...

خطے میں جاری مسلکی لڑائی کے نتیجے میں خود سعودی عرب میں اس سال تین خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں مسجدوں اور سلامتی دستوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور عبادتگاہوں پر بھی جنگجوؤں کے حملے کا خطرہ ہے۔

آج مسجد الحرام میں نماز جمعہ کے بعد مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے عازمین حج نے یہ توقع ظاہر کی کہ اس حج سے مسلمانوں کو اپنے اختلافات کو دور رکھنے کا موقع فراہم ہوگا۔

اردن سے آنے والے عازم حج علی سعید نے جو شام میں جنگی حالات سے بچ کر آئے ہيں، یہ دعا کی کہ شام کے حریف لیڈروں کو عقل آئےاور بے قصوروں کا خون بہانا بند ہو۔ایک باریش ایرانی عازم حج نے کہا کہ "میں ایران کے لیڈران ، عوام اور دوسرے تمام مسلم ملکوں کے لوگوں کو ایک ساتھ مکہ مکرمہ آنے اور اپنے اختلافات ختم کرنے کے لئے یہاں کی روحانیت کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں"۔

Loading...