உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سعودی سماج میں خواتین کی ڈرائیونگ اب بھی ناقابل قبول! کار میں لگائی آگ، دو گرفتار

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    سعودی عرب میں بھلے ہی خواتین کو کار چلانے کی اجازت مل گئی ہو لیکن اس کے باوجود بھی ایسا لگتا ہے کہ سعودی سماج خواتین کی ڈرائیونگ کو تسلیم کرتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      سعودی عرب میں بھلے ہی خواتین کو کار چلانے کی اجازت مل گئی ہو لیکن اس کے باوجود بھی ایسا لگتا ہے کہ سعودی سماج خواتین کی ڈرائیونگ کو تسلیم کرتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس کی ایک مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب کل بدھ کے روز دو لوگوں نے ایک خاتون کی کار کو آگ کے حوالہ کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے فورا کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ مکہ کے حکام نے بتایا کہ ان دو لوگوں میں سے ایک شخص گیراج سے پیٹرول لے کر آیا اور دوسرے شخص نے کار کو آگ کے حوالہ کرنے میں مدد مانگی۔

      العرب نیوز کے مطابق، متاثرہ خاتون کو سعودی عرب کے عوام کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ سعودی عرب کی ہزاروں خواتین کی طرح ’مکہ میں بطور کیشئر کام کرنے والی 33 سالہ سلمی الشریف  بھی خواتین ڈرائیونگ پر پابندی ہٹنے کے بعد سے گاڑی چلا رہی ہیں‘۔لیکن ان کی یہ نئی آزادی تب ختم ہوگئی جب ان کے گھر آکر کسی نے انہیں یہ بتایا کہ ان کی گاڑی میں آگ لگا دی گئی۔ وہیں دوسری جانب الشریف کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی کو ان لوگوں نے آگ لگائی جو خواتین کی ڈرائیونگ کی مخالفت کرتے ہیں‘‘۔

      الشریف نے مزید کہا کہ ’’ میری آدھی تنخواہ 4000 ریال ڈرائیور پرخرچ ہوتے تھے۔ مجھے آفس سے لانا لے جانا ، بزرگ والدین کو پہنچانا، لیکن پابندی ہٹنے کے پہلے روز سے ہی مردوں نے مجھے نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا‘‘۔

       
      First published: