ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی عرب: ولی عہد محمد بن سلمان نے شاہی کنبے کے 2 ارکان اور کئی عہدیداران کو کیا برخاست

ایسا بتایا جا رہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف مہم چھیڑ دی ہے۔ فہد بن ترکی کے بیٹے عزیز فہد کو بھی ڈپٹی گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے ایک آرڈر میں کہا گیا ہے کہ شاہی کنبے کے ان 2 ارکان نے چار حکام کے ساتھ مل کر ' مشتبہ معاشی لین دین' کیا ہے۔ جس کے لئے ان کی جانچ ہو گی۔

  • Share this:
سعودی عرب: ولی عہد محمد بن سلمان نے شاہی کنبے کے 2 ارکان اور کئی عہدیداران کو کیا برخاست
شہزادہ محمد بن سلمان کی فائل فوٹو

ریاض۔ سعودی عرب (Saudi Arabia) میں ایک بار پھر اتھل پتھل شروع ہو گئی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان (Crown Prince Mohammed bin Salman) کے فیصلے کے بعد سعودی عرب میں شاہی کنبے کے 2 ارکان سمیت کئی عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ایک شاہی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے شہزادہ فہد بن ترکی (Prince Fahd bin Turki bin Abdulaziz Al Saud) کو برخاست کر دیا ہے۔ بتا دیں کہ شہزادہ فہد یمن میں سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی دستوں کے کمانڈر تھے۔


ایسا بتایا جا رہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف مہم چھیڑ دی ہے۔ فہد بن ترکی کے بیٹے عزیز فہد کو بھی ڈپٹی گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے ایک آرڈر میں کہا گیا ہے کہ شاہی کنبے کے ان 2 ارکان نے چار حکام کے ساتھ مل کر ' مشتبہ معاشی لین دین' کیا ہے۔ جس کے لئے ان کی جانچ ہو گی۔


اقتدار بچانے میں لگے ہیں محمد بن سلمان


بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، پچھلے 3 سالوں سے محمد بن سلمان حکومت اور انتظامیہ میں موجود اپنے مخالفین کو ہٹانے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ شاہی کنبے کے ان لوگوں کی گرفتاری کا اصل مقصد شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتدار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانا ہے۔ اس سے پہلے شہزادہ محمد بن نائف کے چھوٹے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کو گرفتار کئے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ محمد بن سلمان پر کئی اسکینڈل اور سازشوں میں شامل ہونے کے الزام بھی لگتے رہے ہیں جن میں صحافی جمال خاشقجی کا قتل سب سے اہم ہے۔ سعودی عرب کے صحافی اور حکومت کے سخت ناقد رہے خاشقجی کا استنبول واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کر دیا گیا تھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 01, 2020 11:01 AM IST