உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شریک حیات کے ساتھ جسمانی تعلقات سے پریشان شخص نے کاٹ ڈالا عضو تناسل، ڈاکٹروں نے جوڑنے کی کوشش لیکن 16 گھنٹے۔۔۔

    ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا کٹا ہوا عصو تقریبا 16 گھنٹے تک کھلے میں پڑا رہا۔ ایسی صورت حال میں اس کے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اگر ڈاکٹر نے زبردستی اس عضو کو جوڑ بھی دیا تو متاثرشخص کے باقی اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔

    ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا کٹا ہوا عصو تقریبا 16 گھنٹے تک کھلے میں پڑا رہا۔ ایسی صورت حال میں اس کے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اگر ڈاکٹر نے زبردستی اس عضو کو جوڑ بھی دیا تو متاثرشخص کے باقی اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔

    ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا کٹا ہوا عصو تقریبا 16 گھنٹے تک کھلے میں پڑا رہا۔ ایسی صورت حال میں اس کے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اگر ڈاکٹر نے زبردستی اس عضو کو جوڑ بھی دیا تو متاثرشخص کے باقی اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔

    • Share this:
      بیروبی: کینیا میں ایک 45 سالہ ذہنی مریض شخص (Schizophrenic Kenyan man) نے کچن کے چاقو سے اپنا نجی حصہ کاٹ (Chopping off his private part) دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس شخص نے کافی عرصے سے ادویات لینا بھی چھوڑ دیا تھا۔ پرائیویٹ پارٹ کاٹنے کی وجہ شادی میں آرہے مسائل کو (Marriage Problems) بتایا جا رہا ہے ۔ خاندان کو تقریبا 16 گھنٹے کے بعد اس واقعے کا پتہ چلا جس کے بعد متاثر شخص کو اسپتال پہنچایا گیا۔ ایسے معاملات میں جب کوئی شخص خودکشی کرنے کے ارادے سے اپنا عضو تناسل کاٹنے کی کوشش کرتا ہے اسے فالسی سائیڈ کے طور پر مانا جاتا ہے۔
      علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ مریض کو واقعے کے 16 گھنٹے بعد ان کے پاس لایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاندان کے افراد متاثر شخص کا کٹا ہوا اعضاء بھی لائے تھے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ شخص اپنی شریک حیات کے ساتھ جنسی مسائل کو لیکر پریشان تھا جس کے بعد ذہنی مریض نے اپنا عضو تناسل private part کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح کے زخموں کے معاملات بہت کم ہوتے ہیں۔ ایسے مریض جو عموما ایسی حرکتیں کرتے ہیں وہ ذہنی پریشانی ، فریب یا منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔
      یہ سارا واقعہ ایک میڈیکل جنرل میں شائع ہوا ہے۔ حالانکہ اس میں متاثر شخص کا نام یا پتہ جیسی کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے ڈاکٹروں نے اس کے عضو تناسل کے کٹے ہوئے حصے کو جوڑنے کا فیصلہ کیا لیکن اسے کافی تاخیر اور کٹے ہوئے اعضاء کو صحیح طریقے سے نہ رکھنے کی وجہ سے اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔ ڈاکٹر صرف ان جنسوں کو دوبارہ جوڑنے کے قابل ہیں جو متاثر ہونے سے بچے ہوتے ہیں۔
      ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا کٹا ہوا عصو تقریبا 16 گھنٹے تک کھلے میں پڑا رہا۔ ایسی صورت حال میں اس کے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اگر ڈاکٹر نے زبردستی اس عضو کو جوڑ بھی دیا تو متاثرشخص کے باقی اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر اس کے پیشاب کی نالی کو مستقل نقصان پہنچا تو پھر یورسٹومی بیگ لگانا پڑ سکتا ہے۔ مریض خون کی کمی یا سیپسس کی وجہ سے مر سکتا تھا۔

      ڈاکٹروں نے یہ نہیں بتایا کہ مریض کے جسم سے کتنا خون نکلا ہے اور خون کیسے بند ہوا ہے۔ نجورو کی ایگرٹن یونیورسٹی کے سرجنوں نے یورولوجی کیس رپورٹس میں لکھا کہ مریض ایک عرصے سے اپنی دوائی نہیں لے رہا تھا۔ ڈاکٹر اسے آپریشن تھیئٹر لے گئے۔ وہاں انہوں نے انفیکشن کو روکنے کے لیے اس کے عضو کو صاف کیا اور خون بہنا روکا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: