உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    واشنگٹن یونیورسٹی نے بنایا خاص کیمیکل ، سارس کے ساتھ کورونا سے بچاو کرنے کا بھی دعوی

    واشنگٹن یونیورسٹی نے بنایا خاص کیمیکل ، سارس کے ساتھ کورونا سے بچاو کرنے کا بھی دعوی

    واشنگٹن یونیورسٹی نے بنایا خاص کیمیکل ، سارس کے ساتھ کورونا سے بچاو کرنے کا بھی دعوی

    امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیکل (Scientists at Washington University School of Medicine) کے محققین کے مطابق ایم ایم 3122 (MM3122) نام کا یہ کمپاونڈ کئی وائرس کے ہیومن سیلس پر حملے کو ایک اہم خصوصیت کے ساتھ مداخلت کرنے انہیں کمزور کردیتا ہے ۔

    • Share this:
      واشنگٹن : سائنسدانوں نے ایک ایسے کیمیکل کمپاونڈ کو ڈیولپ کرنے کا دعوی کیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ سارس ۔ سی او وی 2 وائرس (SARS-CoV-2)  سے ہونے والے انفیکشن کو روک سکتا ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ اگر انفیکشن کے دوران اس کو جلد دیا جائے تو کورونا کی سنگینی کو کم کیا جاسکتا ہے ۔

      امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیکل (Scientists at Washington University School of Medicine) کے محققین کے مطابق ایم ایم 3122 (MM3122) نام کا یہ کمپاونڈ کئی وائرس کے ہیومن سیلس پر حملے کو ایک اہم خصوصیت کے ساتھ مداخلت کرنے انہیں کمزور کردیتا ہے ۔

      میگزین پریسیڈنگس آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائسنسز میں بتایا گیا ہے کہ کمپاونڈ ، انسانوں میں پائے جانے والے ایک اہم پروٹین ٹراسمیمبرین سیرین پروٹیز 2 (TMPRSS2) کو نشانہ بناتا ہے ، جس کا استعمال کورونا وائرس بھی انسانی خلیات میں داخل ہونے اور انہیں متاثر کرنے کیلئے کرتا ہے ۔

      واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر جیمس ڈبلیو جینیٹکا نے کہا کہ سارس ۔ سی او وی 2 کو روکنے کیلئے کئی ٹیکے اب موجود ہیں ، لیکن پھر بھی اس عالمی وبا کی سنگینی کو کم کرنے کیلئے موثر اینٹی وائرل ادویات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس کیمیکل کمپاونڈ کو ہم ڈیولپ کررہے ہیں ، وہ وائرس کو خلیات کے اندر جانے سے روکے گا ۔

      کورونا کے علاج کیلئے مصنوعی اینٹی باڈیز تیار

      دوسری طرف یورپین میڈیسن ایجنسی نے کورونا کے علاج کے لئے مصنوعی طور پر تیار اینٹی باڈیز کی مارکیٹنگ کی اجازت دینے پر غور شروع کردیا۔ مصنوعی تیار کردہ ’مونوکلونل اینٹی باڈیز‘ بارہ سال سے زائد عمر کے افراد میں کورونا کے علاج کے لیے استعمال کی جارہی ہیں ۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے 20 ممالک مصنوعی طور پر مونوکلونل اینٹی باڈیز کے ہنگامی استعمال کی پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔

      دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کے لیے کووڈ 19 ویکسین کی اضافی خوراک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدافعتی نظام کمزور ہونے کے باعث ایسے افراد میں ویکسینیشن کے بعد بھی بیماری یا بریک تھرو انفیکشن کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ویکسینیشن ماہرین کے اسٹرٹیجک ایڈوائزری گروپ نے کہا کہ کمزور مدافعتی نظام کے مالک افراد میں پرائمری ویکسینیشن کے بعد بھی کووڈ 19 کی سنگین شدت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: