உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں مسجد پر دہشت گردانہ حملے کی سلامتی کونسل نے مذمت کی

    افغانستان میں مسجد پر دہشت گردانہ حملے کی سلامتی کونسل نے مذمت کی

    افغانستان میں مسجد پر دہشت گردانہ حملے کی سلامتی کونسل نے مذمت کی

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے افغانستان کے صوبے قندوز میں ایک مسجد پر جمعہ کے روز ہونے والے مہلک حملے کی مذمت کی ہے۔ یو این ایس سی نے یہاں ایک بیان میں کہا ’’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہروں میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے فنڈز اور اسپانسرز کا کردار قابل مذمت ہے۔‘‘

    • Share this:
      اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے افغانستان کے صوبے قندوز میں ایک مسجد پر جمعہ کے روز ہونے والے مہلک حملے کی مذمت کی ہے۔ یو این ایس سی نے یہاں ایک بیان میں کہا ’’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہروں میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے فنڈز اور اسپانسرز کا کردار قابل مذمت ہے۔‘‘

      اس سے قبل یوروپی یونین کی بیرونی ایکشن سروس (ای ای اے ایس ) نے کہا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ-خراسان ( آئی ایس آئی ایس - خراسان ) دہشت گرد گروہ جس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے کو قانون کے تحت لایا جانا چاہئے اور مذہبی اقلیتوں سمیت تمام افغان شہریوں کے حقوق کی پاسداری کی جانی چاہئے۔

      واضح رہے کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ خراسان (IS-K) نے افغانستان میں مسجد میں ہوئے بم دھماکے (Afghanistan Mosque Attack) کی ذمہ داری لی ہے۔ شمالی افغانستان میں شیعہ مسلم نمازیوں سے بھری ایک مسجد میں جمعہ کے روز بم دھماکہ ہوا تھا۔ اس حملے میں کم از کم 46 لوگوں کے جاں بحق ہونے اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ آئی ایس سے جڑی اماک نیوز ایجنسی نے قندوز صوبہ میں مسجد میں دوپہر کی نماز کے دوران ہوئے دھماکہ کے کچھ گھنٹے بعد اس دعوے کی جانکاری دی۔ واضح رہے کہ اسلامک اسٹیٹ خراسان نے ہی اگست کے آخری ہفتے میں کابل ایئر پورٹ پر حملہ کیا تھا۔ اپنے ٹیلی گرام چینلوں پر جاری ایک بیان میں، ’جہادی گروپ- اسلامک اسٹیٹ کے ایک معاون نے کہا کہ اس کے خود کش حملے نے ایک مسجد کے اندر جمع ہوئے شیعہ مسلمانوں کی ایک بھیڑ کو نشانہ بنایا۔ حملہ آور نے ایک دھماکہ خیز مادہ والی بنیان پہن رکھی تھی۔

      نماز کے دوران دھماکہ

      غوزر سید آباد مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب طالبان اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لئے سیکورٹی کا یہ ایک نیا چیلنج ہے۔ عینی شاہد علی رضا نے بتایا کہ وہ دھماکہ کے وقت نماز ادا کر رہے تھے اور انہوں نے کئی لوگوں کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھا۔ جائے حادثہ کی تصاویر اور ویڈیو میں سیکورٹی اہلکار مسجد سے کمبل میں لپٹی ہوئی لاشوں کو ایمبولینس میں رکھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: