உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Canadian Mass Shooting: کینیڈامیں کئی بےگھرافرادکواجتماعی ہلاکت کا سامنا، آخرکیاہےوجہ؟

    ایک گاڑی کی ونڈشیلڈ میں گولیوں کے سوراخ تھے۔

    ایک گاڑی کی ونڈشیلڈ میں گولیوں کے سوراخ تھے۔

    رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (Royal Canadian Mounted Police) کے اہلکار سارجنٹ ریبیکا پارسلو نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا کوئی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ پولیس متعلقہ ہلاکتوں کے بارے میں تحقیقات کو سامنے لا رہی ہیں۔

    • Share this:
      مقامی میڈیا کے مطابق کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا (British Columbia) میں پیر کے روز صبح اجتماعی فائرنگ کے دوران متعدد افراد ہلاک اور درجنوں متاثر ہوئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ ایک شخص زیر حراست ہے۔ پولیس نے اس سے قبل لینگلے (Langley) شہر میں متعدد فائرنگ کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا اور رہائشیوں کو چوکس رہنے اور جائے واقعہ سے دور رہنے کو کہا گیا ہے۔

      لینگلے پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے متعدد متاثرین کی جانب سے گولیاں چلنے کی شکایات درج کی ہیں اور لینگلے شہر میں کئی بھیانک مناظر کی بھی بات کہی ہے، جس سے مقامی اور غیر مقامی لوگوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

      کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (Canadian Broadcasting Corp) نے آر سی ایم پی کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد افراد ہلاک ہوئے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان کی اصلی کتنی تعداد ہیں۔ سی بی سی کے مطابق متاثرین بے گھر تھے اور پولیس کا خیال ہے کہ حملے کرکے ان کو نشانہ بنایا گیا۔

      رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے دو سیاہ SUVs کو دیکھا، جو پولیس کی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ شوٹنگ کی جگہوں میں سے ایک کے قریب ایک کھائی میں اس کو دیکھا گیا ہے۔ ایک گاڑی کی ونڈشیلڈ میں گولیوں کے سوراخ تھے۔

      مزید پڑھیں: 

      رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (Royal Canadian Mounted Police) کے اہلکار سارجنٹ ریبیکا پارسلو نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا کوئی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ پولیس متعلقہ ہلاکتوں کے بارے میں تحقیقات کو سامنے لا رہی ہیں۔

      مزید پڑھیں: 


      بی سی کے رہائشیوں کے فون پر بھیجے گئے ایک الرٹ میں لکھا گیا کہ لینگلے شہر کے ڈاون ٹاؤن کور میں شوٹنگ کے متعدد مناظر ظاہر ہوسکتے ہیں۔ اس دوران لینگلے ٹاؤن شپ میں ایک بھیانک واقعہ ہوا جس میں کئی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: